بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں پیر کے روز ہزاروں نوجوانوں نے سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کیا۔ بھونیشور میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے نظام میں شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جس کے جواب میں پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔

جھارکھنڈ جاب ایگزام پروٹیسٹ کی تفصیلات

یہ جھارکھنڈ جاب ایگزام پروٹیسٹ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مشتعل مظاہرین نے قانون ساز اسمبلی کی عمارت کے قریب سیکیورٹی حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔ شرکاء، جن میں بڑی تعداد میں طلباء اور بے روزگار نوجوان شامل تھے، کا الزام ہے کہ حالیہ بھرتی کے امتحانات میں پیپر لیک ہونے اور میرٹ کی پامالی جیسے سنگین واقعات پیش آئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نتائج کو فوری طور پر منسوخ کر کے تحقیقات کروائی جائیں۔

حکومتی ملازمتوں کے حصول کے لیے یہ نوجوان کئی برسوں سے تیاری کر رہے ہیں، اور امتحان کے عمل میں بے ضابطگیوں کی خبروں نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک شفاف انکوائری نہیں ہوتی، احتجاج جاری رہے گا۔

آئندہ کے ممکنہ اثرات

مظاہرین نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ فی الحال ان کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

  • حالیہ امتحانات کے پرچوں کی غیر جانبدارانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ۔
  • انتظامی غفلت کے ذمہ دار عہدیداروں کی فوری معطلی۔
  • بھرتی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے نئے اور واضح قواعد و ضوابط کا نفاذ۔

آئندہ چند روز میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ریاستی حکومت کسی آزادانہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر رضامند ہوتی ہے یا نہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے میں نوجوانوں کی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں سرکاری ملازمتیں معاشی استحکام کا واحد ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔