ویسٹرن کیپ میں آر 101 شاہراہ پر ڈو ٹوئٹس کوف پاس کے مقام پر ہونے والے ایک خوفناک کثیر گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور ایمرجنسی سروسز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاکہ امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔ حکام نے تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں موقع پر ہی تین اموات ہوئیں جبکہ متعدد دیگر مسافر شدید زخمی ہوئے ہیں۔
حادثے کی تفصیلات اور صورتحال
ٹریفک پولیس نے حادثے کے فوری بعد آر 101 کے اس حصے کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا تاکہ ملبہ ہٹایا جا سکے اور تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔ پہاڑی راستے اپنے تیز موڑوں، دھند اور ڈھلوان کی وجہ سے ہمیشہ خطرناک مانے جاتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ حادثہ تیز رفتاری، بریک فیل ہونے یا خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا۔ ٹریفک کو بحال کرنے کے لیے ہیوی مشینری اور کرینوں کی مدد لی گئی۔
مسافروں کے لیے روڈ سیفرٹی کے اہم سبق
اگرچہ یہ حادثہ پاکستان سے باہر پیش آیا ہے، لیکن یہ ہم سب کے لیے پہاڑی سفر کے دوران احتیاط برتنے کی ایک اہم یاد دہانی ہے۔ چاہے آپ مری جا رہے ہوں یا گلگت بلتستان کے کچے اور پکے راستوں پر سفر کر رہے ہوں، احتیاطی تدابیر جان کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔
- لمبے یا پہاڑی سفر پر نکلنے سے پہلے گاڑی کے بریک اور ٹائروں کی حالت ضرور چیک کریں۔
- ڈھلوان یا پھسلن والے راستوں پر اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔
- کبھی بھی اندھے موڑ یا خطرناک مقامات پر اورٹیک کرنے کی کوشش نہ کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
پولیس اور فرانزک ٹیموں کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد حادثے کی اصل وجوہات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ مقامی انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس خطرناک روٹ پر مزید حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں کا سفر کرتے وقت موسمی حالات کو مدنظر رکھیں اور ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں۔
