خلیجی پانیوں میں ہونے والے متعدد بحری حملوں کے دوران تین پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستوں پر بین الاقوامی جہاز رانی شدید خطرات کی زد میں ہے۔
خلیجی بحری حملوں کی تفصیلات
یمنی حکومت کے حکام کے مطابق، باب المندب کے قریب تنزانیہ کے پرچم بردار جہاز پر ہونے والے حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ علاقہ اس وقت شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں حوثی باغیوں نے سعودی جہازوں سمیت کئی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی افواج نے بھی اس خطے میں کارروائی کرتے ہوئے پاناما کے پرچم بردار کنٹینر جہاز کو ناکارہ بنایا ہے جو مبینہ طور پر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاکستانیوں کے لیے حفاظتی اقدامات
اس صورتحال نے سمندر میں کام کرنے والے پاکستانی عملے کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ وزارت خارجہ کی جانب سے متاثرین کی شناخت اور ان کی لاشوں کی وطن واپسی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
- متعلقہ شپنگ کمپنیوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ جہازوں پر موجود دیگر پاکستانیوں کی خیریت معلوم کی جا سکے۔
- وزارت خارجہ کی ویب سائٹ mofa.gov.pk پر جاری ہونے والی ہدایات کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
- بیرون ملک موجود اپنے پیاروں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے سفارتی مشن کے نمبر محفوظ رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں بین الاقوامی میری ٹائم کولیشن کی جانب سے سیکیورٹی کے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ حکومت پاکستان ان حملوں کے بعد سمندری راستوں پر تعینات پاکستانی عملے کے تحفظ کے لیے نئی پالیسیوں کا اعلان کرے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ خبروں سے گریز کریں اور صرف سرکاری اعلامیوں پر انحصار کریں۔
