لاہور کے علاقے کاہنہ سے تین سالہ مغوی بچے حسنین کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے کے اہل خانہ اور مقامی پولیس اس کی بازیابی کے لیے کوششوں میں مصروف تھے۔

لاہور کڈنیپنگ کیس کی تفصیلات

مقتول بچے کے اغوا کا مقدمہ گزشتہ روز کاہنہ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، بچے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں تلاش شروع کر دی گئی تھی، تاہم بدھ کے روز بچے کی لاش ایک ویران مقام سے ملی۔ اس لاہور کڈنیپنگ کیس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

پولیس کی تحقیقات اور پیش رفت

پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ تفتیشی حکام جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اور قریبی گھروں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
  • پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
  • تفتیش کو ہر پہلو سے دیکھا جا رہا ہے تاکہ اغوا کے مقاصد کا تعین ہو سکے۔

والدین کے لیے حفاظتی ہدایات

اس واقعے کے بعد پولیس نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں اکیلا باہر نہ جانے دیں۔ پولیس اس کیس میں ملوث افراد کی تلاش کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور جلد ہی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں اس معاملے میں کوئی مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر قریبی تھانے کو مطلع کریں۔