راولپنڈی کے قریب سوہن پل پر ایک افسوسناک واقعے میں ایک 28 سالہ خاتون بائیکر اور سوشل میڈیا کنٹینٹ کریٹر دریائے سوہن میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ بدھ کے روز پیش آیا جب خاتون مبینہ طور پر ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں۔
واقعے کی تفصیلات
جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت کومل جان کے نام سے ہوئی ہے، جو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اسسٹنٹ کے عہدے پر تعینات تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ راولپنڈی کے ایک معروف ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب موجود تھیں جب وہ پل سے نیچے دریا میں گر گئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، تاہم خاتون کو بچایا نہ جا سکا۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ ویڈیو بناتے وقت توازن بگڑنے سے ہوا یا کوئی اور تکنیکی وجہ بنی۔
سوشل میڈیا اسٹنٹ کا بڑھتا ہوا رجحان
پاکستان میں ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز کے لیے خطرناک مقامات پر ویڈیوز بناتے ہوئے حادثات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیوز کو وائرل کرنے کی دوڑ میں نوجوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ پلوں، دریاؤں اور شاہراہوں پر اس طرح کے اسٹنٹ کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بناتا ہے، تو درج ذیل احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں:
- پلوں، گہرے پانی یا تیز رفتار ٹریفک والی سڑکوں کے قریب ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔
- اپنی حفاظت کو کیمرے کے اینگل سے زیادہ اہمیت دیں۔
- اگر آپ کسی کو خطرناک مقامات پر اسٹنٹ کرتے ہوئے دیکھیں تو مقامی پولیس کو مطلع کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
انتظامیہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی اپنے ملازمہ کی وفات پر بیان متوقع ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے دور رہیں۔
