جنوبی افریقہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوازولوروٹال کے علاقے زویلیشا میں دو کمسن لڑکیوں کے مبینہ بار بار استحصال اور تشدد کے الزام میں ایک روایتی معالج کو حراست میں لے لیا ہے۔ ملزم، جس کی شناخت عدالتی کارروائی تک مخفی رکھی گئی ہے، تیرہ اور سولہ سالہ دو لڑکیوں کے مبینہ گھناؤنے استحصال کے سلسلے میں متعدد الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ گرفتاری کمیونٹی کی شکایات اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مقامی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اس واقعے کی کوریج کرنے والے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے مطابق ملزم ایک روایتی معالج کے طور پر کام کرتا تھا اور مقامی سطح پر مشورے کے بہانے لوگوں کو متاثر کرتا تھا۔ اس واقعے نے مقامی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور صوبے بھر میں نیم و حضری علاقوں میں کام کرنے والے غیر رجسٹرڈ معالجین کی کڑی نگرانی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
زویلیشا پولیس کارروائی کی تفصیلات
موصولہ اطلاعات کے مطابق مقامی تفتیشی افسران نے گھریلو افراد اور کمیونٹی کے نمائندوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد کارروائی کی۔ دونوں متاثرہ لڑکیاں جن کی عمریں تیرہ اور سولہ برس ہیں، اس وقت علاقائی سوشل سروسز کے تحت خصوصی طبی اور نفسیاتی امداد حاصل کر رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی پولیس سروسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس ملزم کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی اور معلومات ہوں تو وہ تفتیش کاروں سے رابطہ کریں۔
وسیع تر اثرات اور کمیونٹی کا ردعمل
افریقی براعظم میں بچوں کے خلاف جرائم اور صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہیں۔ کوازولوروٹال میں سول سوسائٹی کے گروہوں نے مقامی عدالت کے باہر پرامن احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو ضمانت ہرگز نہ دی جائے۔ عوامی سلامتی کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے افراد پر کڑی نظر رکھی جائے جو پسماندہ علاقوں میں روایتی یا روحانی پیشوا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
ملزم کو جلد ہی مقامی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں وہ متعدد الزامات کا سامنا کرے گا۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سنگین نوعیت کے جرائم اور متاثرہ بچوں کی کم عمری کے پیش نظر استغاثہ ملزم کی ضمانت کی شدید مخالفت کرے گا۔ مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ پولیس کی تحقیقات کے دوران کیا مزید متاثرین بھی سامنے آتے ہیں۔
