پاکستان کے پاس موجود معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے transparency in critical minerals agreements (اہم معدنی معاہدوں میں شفافیت) ناگزیر ہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمٰن نے اتوار، 10 نومبر 2024 کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر ملک کی برآمدات کو متنوع بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
معدنی معاہدوں میں شفافیت کی اہمیت
سیف الرحمٰن نے زور دیا کہ اگر حکومت معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے لیے واضح اور شفاف پالیسیاں وضع کرے تو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شفافیت کے بغیر ان وسائل سے ملنے والا معاشی فائدہ محدود رہے گا۔
- برآمدات میں تنوع: روایتی مصنوعات سے ہٹ کر قیمتی معدنیات کی برآمد۔
- جدید ٹیکنالوجی: عالمی کان کنی کمپنیوں کی آمد سے ٹیکنالوجی کی منتقلی۔
- روزگار: مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ہزاروں ملازمتوں کا قیام۔
معیشت پر اثرات
پاکستان کے پاس تانبے، سونے اور دیگر نایاب معدنیات کے ذخائر موجود ہیں جو عالمی منڈی میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت شفاف طریقے سے معاہدے کرتی ہے تو اس سے حاصل ہونے والا ریونیو قومی خزانے کو مضبوط کرے گا، جس سے عام آدمی پر بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اب کیا ہوگا؟
سرمایہ کاروں اور متعلقہ شعبوں کو حکومت کی جانب سے کان کنی کے نئے لائسنسوں اور ٹینڈرز پر نظر رکھنی چاہیے۔ حکومتی پورٹل mop.gov.pk پر آنے والی اپ ڈیٹس اس حوالے سے اہم ہوں گی۔ شفافیت کا قیام نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا بلکہ پاکستان کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بھی بنائے گا۔
