ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی انتخابی مہم کی حمایت سے گریز نے us israel relations (پاک اسرائیل/امریکی-اسرائیلی تعلقات) کے منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ سابق امریکی صدر ماضی میں نیتن یاہو کے قریبی اتحادی رہے ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں ان کے رویے میں آنے والی تبدیلی نے عالمی سیاست کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔
امریکی-اسرائیلی تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
نیتن یاہو اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں اور انہیں انتخابات میں سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی جانب سے کھل کر حمایت نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی یا سیاسی سطح پر خلیج پیدا ہو چکی ہے۔
- کھل کر حمایت کا فقدان: ٹرمپ نے اب تک نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے حق میں کوئی واضح بیان نہیں دیا ہے۔
- حکمت عملی میں تبدیلی: مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ اپنی سیاسی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔
- نجی ملاقاتوں میں تلخی: گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں بھی وہ گرمجوشی نظر نہیں آئی جو ماضی کا خاصہ تھی۔
اس تبدیلی کے اثرات
پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے یہ صورتحال اہم ہے۔ اگر ٹرمپ کا حمایت سے گریز برقرار رہتا ہے، تو یہ نیتن یاہو کے حریفوں کے لیے ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی پالیسیوں پر بھی پڑ سکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ اپنی خاموشی توڑتے ہیں یا نیتن یاہو کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ نیتن یاہو کی سیاسی بقا اب مکمل طور پر ان کے مقامی اتحادیوں پر منحصر ہو کر رہ گئی ہے۔
قارئین کے لیے اہم نکات
اگر آپ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں، تو اس بات کو نوٹ کریں کہ نیتن یاہو کی داخلی سیاست کا اثر خطے کے امن معاہدوں پر کیسے پڑتا ہے۔ نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری خطے میں نئے اتحادوں کو جنم دے سکتی ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے نیا پاکستان کے ساتھ جڑے رہیں۔
