ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی غلبے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ باقاعدہ شرائط تسلیم کیے بغیر اس آبی گزرگاہ کو معمول کے مطابق نہیں کھولا جائے گا۔
جوائنٹ بیس اینڈریو پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں ایران پر اعتماد نہیں کرتا، انہوں نے مجھ سے مسلسل جھوٹ بولا ہے۔" اس عدم اعتماد کے باوجود، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حوالے سے مجموعی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور امریکی افواج کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔
تاہم، تہران نے واشنگٹن کے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا کہ جب تک مغرب ایران کی پیش کردہ شرائط تسلیم نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کو معمول پر نہیں لایا جائے گا۔
اس جاری کشیدگی کے اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- ٹرمپ کا عدم اعتماد: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی نمائندوں نے ان سے بارہا جھوٹ بولا، جس کی وجہ سے وہ تہران پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔
- امریکی کنٹرول کا دعویٰ: ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحری اور فوجی دستوں نے آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
- ایران کا موقف: محسن رضائی نے واضح کیا کہ تہران کی شرائط کی منظوری تک آبنائے ہرمز کو عام تجارتی آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
- پاکستان پر اثرات: خلیج فارس میں طویل کشیدگی سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، ایندھن کی فراہمی اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کا تنازع
دونوں ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے والے تازہ بیانات سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ پر جاری لفظی جنگ میں مزید شدت آ گئی ہے۔ جوائنٹ بیس اینڈریو پر ٹرمپ کے بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے سفارتی اختلافات کو ایک بار پھر ظاہر کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا امریکی دعویٰ عالمی آئل ٹینکرز اور شپنگ کمپنیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ یہ راستہ محفوظ ہے۔ واشنگٹن کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ امریکی بحریہ آئل ٹینکرز کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
تاہم، دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی ساحلوں، میزائل بیٹریوں اور تیز رفتار کشتیوں سے گھری اس تنگ بحری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول قائم رکھنا اتنا آسان نہیں جتنا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تہران مسلسل اس گزرگاہ پر اپنی نگرانی اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
تہران کی شرائط اور بحری گزرگاہ کی بندش کا خطرہ
واشنگٹن کے ملٹری دعووں کو رد کرتے ہوئے ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ خلیج میں یکطرفہ طور پر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ محسن رضائی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی بلاتعطل آمدورفت کا انحصار سیاسی مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔
تہران کا موقف ہے کہ جب تک اس کے بنیادی مطالباتی نکات—جن میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور غیر ملکی بحری مداخلت کی روک تھام شامل ہیں—تسلیم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے راستہ مکمل طور پر کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستانی معیشت اور پیٹرول کی قیمتوں پر اثرات
پاکستان کے لیے خلیج فارس میں پیدا ہونے والی کشیدگی صرف ایک غیر ملکی خبر نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا 70 فیصد سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے خلیجی ممالک سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی حاصل کرتا ہے۔
اگر یہ کشیدگی کسی بحری بندش یا تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے تو پاکستان میں اس کے اثرات فوری اور شدید ہوں گے:
- پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ: عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھنے سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ہر 15 دن بعد کی جانے والی جائزہ بیٹھک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔
- مہنگائی کی نئی لہر: ایندھن مہنگا ہونے سے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جائیں گے جس سے اشیائے خوردونوش مہنگی ہوں گی۔
- روپے کی قدر پر دباؤ: تیل کا درامدی بل بڑھنے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آئے گا، جس سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کمزور ہو سکتا ہے۔
- ایل این جی کی فراہمی میں تاخیر: قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے جہازوں کا کرایہ اور انشورنس کا خرچ بڑھنے سے ملک میں گیس کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستانی تاجر اور شہری کیا کریں؟
مشرق وسطیٰ کی ابتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی شہریوں اور کاروباری حضرات کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- اوگرا کے اعلاانات پر نظر رکھیں: ہر ماہ کی 15 اور آخری تاریخ کو اوگرا اور وزارت توانائی کی جانب سے جاری ہونے والی پیٹرولیم قیمتوں پر نظر رکھیں۔
- ٹرانسپورٹ اخراجات کا تخمینہ رکھیں: لاجسٹکس اور سپلائی چین سے وابستہ کمپنیاں اپنے قلیل مدتی معاہدوں میں ایندھن کے اخراجات میں 5 سے 10 فیصد اضافے کا پیشگی امکان رکھیں۔
- ایندھن کی بچت: صنعتی اور گھریلو صارفین جن کا انحصار پیٹرول یا گیس جنریٹرز پر ہے، وہ ایندھن کا استعمال متوازن رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے خلیج فارس میں نئی بحری تعیناتیوں سے متعلق بیانات کا جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں کی چیکنگ اور بیانات کا بغور مشاہدہ کریں۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت کی سمت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکے گا کہ تیل کی قیمتیں کس حد تک متاثر ہو سکتی ہیں۔
