ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پیدائشی شہریت کے معاملے پر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دو نئے ایگزیکٹو احکامات پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ان بچوں کی شہریت کو محدود کرنے کی کوشش ہے جو امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی قیام پذیر غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔

پیدائشی شہریت پر قانونی کشمکش

امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام بچوں کو خودکار طور پر شہریت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ اس حق کو محدود کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ پیشرفت جون 2024 میں سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی سابقہ کوششوں کو مسترد کیے جانے کے باوجود سامنے آئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عدالتی رکاوٹوں کے باوجود اپنی پالیسی پر قائم ہیں۔

پاکستانیوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور وہاں جانے کے خواہشمند افراد کے لیے یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ اگر یہ احکامات نافذ العمل ہوتے ہیں تو اس سے ان خاندانوں کے لیے قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو عارضی ویزا یا دیگر حیثیتوں پر امریکہ میں مقیم ہیں۔ 14ویں ترمیم کا تحفظ اب تک تارکین وطن کے لیے ایک مضبوط قانونی بنیاد رہا ہے، لیکن حالیہ اقدامات نے اس پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کے اہل خانہ امریکہ میں ہیں، تو درج ذیل اقدامات پر توجہ دیں:

  • امریکی امیگریشن (USCIS) کی سرکاری ویب سائٹ پر پالیسی میں کسی بھی تبدیلی پر نظر رکھیں۔
  • اس معاملے پر قانونی ماہرین کی رائے لیتے رہیں، کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان احکامات کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
  • عارضی ویزا ہولڈرز کو مشورہ ہے کہ وہ اپنی قانونی حیثیت سے متعلق کسی بھی تبدیلی کے لیے اپ ڈیٹ رہیں۔

توقع ہے کہ ان احکامات کے خلاف فوری طور پر عدالتی چارہ جوئی شروع ہو جائے گی، جس کے بعد امریکی عدالتیں ہی اس بات کا فیصلہ کریں گی کہ آیا یہ اقدامات آئینی حدود کے اندر ہیں یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس قانونی جنگ کے نتائج پر سب کی نظریں جمی ہیں۔