امریکی صدر ڈونلڈ نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اہم تجارتی گزرگاہ آبراہ ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور اس تازہ کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے حالات مزید پیچیدہ کر دیے ہیں۔
اسٹریٹجک آبراہ ہرمز کی موجودہ صورتحال اور امریکی مؤقف
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکہ اس انتہائی حساس خطے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کی خاطر ایندھن اور گیس کی بلند قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے اس نوعیت کے بیانات سے عالمی منڈیوں میں خام تیل کے نرخوں پر فوری دباؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت تمام درآمدی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی اور خلیجی ممالک کا ردعمل
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے دو بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں، جس کے بعد آبراہ ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ خلیجی ممالک بالخصوص ریاض، ابوظہبی اور دوحہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور خطے میں فوراً کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جہاز رانی کے بند ہونے یا متاثر ہونے سے پاکستان جیسی معیشتوں کے لیے توانائی کی درآمدات مزید مہنگی اور مشکل ہو سکتی ہیں۔
پاکستانی صارفین پر اس بحران کے ممکنہ اثرات
آپ کے لیے اس خبر کا مطلب یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومتِ پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ ملک پہلے ہی شدید مہنگائی اور آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کی زد میں ہے، ایسے میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل پاکستان کے تجارتی خسارے اور مہنگائی کی شرح کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے۔ اوگرا اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے آنے والے دنوں میں عالمی منڈی کے رجحانات پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
اب آگے کیا ہوگا؟
آئندہ چند روز میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا واشنگٹن اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے اور تہران کا اس پر کیا ردعمل آتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ مقامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں کیونکہ عالمی منڈی کا ہر ہلکا سا جھٹکا براہِ راست آپ کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
