ترکیہ نے بحیرہ اسود میں دو تجارتی جہازوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے حملے نہ صرف بین الاقوامی بحری نقل و حمل بلکہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ دونوں جہاز روس کی بندرگاہ نووروسیسک سے روانہ ہونے کے بعد بحیرہ اسود کے سمندری حدود میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں عملے کے افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

بحری تجارت کو لاحق نئے خطرات

بحیرہ اسود میں سکیورٹی کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور حالیہ واقعات سے تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات مزید واضح ہو گئے ہیں۔ ترکیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن سے دنیا بھر میں سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

حملوں کی زد میں آنے والے جہازوں کے عملے کو پہنچنے والے نقصان کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

  • متاثرہ جہاز: دو تجارتی کارگو جہاز
  • روانگی کی جگہ: نووروسیسک بندرگاہ، روس
  • جائے وقوعہ: بحیرہ اسود کے بین الاقوامی پانی
  • جانی نقصان: عملے کے ارکان کے زخمی ہونے کی تصدیق

عالمی غذائی تحفظ پر اثرات

بحیرہ اسود کے راستے ہونے والی تجارت دنیا بھر میں خوراک کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹیں آنے سے بین الاقوامی منڈیوں میں غذایی اجناس کی قیمتوں اور ترسیل پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔

خطے میں کام کرنے والی شپنگ کمپنیوں نے اپنے سکیورٹی طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے دنوں میں ترکیہ کی سمندری حدود کے امور سے متعلق وزارت، بین الاقوامی شپنگ تنظیموں اور روسی بندرگاہ کے حکام کے بیانات پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس واقعے کے بعد بحیرہ اسود میں تجارتی بحری آمدورفت کے لیے کیا نئے حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔