پاکستان کے سمندری حدود میں تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے ایک ترک کمپنی جلد آف شور ڈرلنگ شروع کرے گی۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے 25 جون 2026 کو اسلام آباد میں کیا۔
ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (HDIP) کے مرکزی دفتر کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملکی ساحلی حدود میں ڈرلنگ کے آغاز کے لیے تمام تکنیکی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھاری در آمدی بل کے دباؤ کا شکار ہے۔
وزیر پٹرولیم کے اعلان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- اہم پیش رفت: ترک توانائی کمپنی پاکستان کی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔
- اعلان کی تاریخ: 25 جون 2026 کو اسلام آباد میں HDIP کے دورے کے موقع پر اعلان کیا گیا۔
- مرکزی شخصیت: وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک۔
- توانائی کا بحران: پاکستان فی الوقت اپنی مجموعی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد حصہ غیر ملکی در آمدات سے پورا کرتا ہے۔
- سپلائی کی صورتحال: وزارت پٹرولیم کے مطابق عالمگیر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی گئی ہے۔
پاکستانی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ اور توانائی کا تحفظ
پاکستان میں آف شور ڈرلنگ کا نیا مرحلہ بحیرہ عرب میں چھپے ہوئے قدرتی وسائل کو دریافت کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔ اس سے قبل کراچی کے ساحل کے قریب کیکڑا-1 سمیت دیگر منصوبوں میں ڈرلنگ کی گئی تھی، لیکن تجارتی پیمانے پر ذخائر نہ ملنے کے باعث کام روکنا پڑا تھا۔ تاہم اب جدید سیسمک ڈیٹا اور ترک کمپنیوں کی اعلیٰ تکنیکی صلاحیتوں کی بدولت ماہرین ارضیات میں ایک بار پھر امید پیدا ہوئی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ترک ماہرین کے تعاون سے پاکستان کے مقامی اداروں خصوصاً HDIP کو جدید ترین جیو فزیکل نقشہ سازی میں مدد ملے گی۔ ترک اداروں نے حال ہی میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود میں گہرے پانیوں سے گیس کے بڑے ذخائر دریافت کیے ہیں، جس سے ان کا اپنا در آمدی انحصار کافی حد تک کم ہوا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کا پاکستان کی سمندری حدود میں استعمال نئے ذخائر کی نشان دہی کر سکتا ہے۔
مقامی سطح پر ایندھن کی تلاش معیشت کے لیے کیوں ضروری ہے؟
پاکستان کا معاشی بحران کافی حد تک اس کے توانائی کے در آمدی بل سے جڑا ہوا ہے۔ ملک اپنی 90 فیصد کے قریب توانائی کی ضروریات کے لیے در آمدی ایل این جی (LNG) اور خام تیل پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور عام ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
جب بھی عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوتا ہے یا زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں تو سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے لیے ایل سیز کھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر پاکستانی حدود سے تیل یا گیس کے تجارتی ذخائر مل جاتے ہیں تو اس سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں بڑی کمی آئے گی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کو مقامی سطح پر پٹرول کی قیمتیں مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔
وزیر پٹرولیم نے HDIP کے دورے میں واضح کیا کہ عالمی مارکیٹ کی مشکلات کے باوجود حکومت نے ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف در آمدات پر انحصار طویل مدتی حل نہیں ہے۔
ایچ ڈی آئی پی اور تحقیقاتی صلاحیتوں میں بہتری
ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (HDIP) وزارت پٹرولیم کا مرکزی فنی ادارہ ہے جو ایندھن کی کوالٹی، خام تیل کی جانچ اور ارضیاتی سروے کا ذمہ دار ہے۔ 25 جون 2026 کو دورے کے دوران وزیر پٹرولیم نے ادارے کی لیبارٹریوں کو جدید بنانے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔
اس تعاون کے ذریعے ترک ماہرین کے ساتھ مل کر ڈرلنگ کے دوران حاصل ہونے والے نمونوں کی تفصیلی جانچ کی جائے گی تاکہ مکران اور انڈس کے بحری طاس کی بہتر نقشہ سازی ہو سکے۔
شہری اور کاروباری طبقہ کس چیز پر نظر رکھے؟
پاکستان کے شہریوں، تاجروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے آنے والے دنوں میں درج ذیل نکات اہم ہوں گے:
- ڈرلنگ کے باضابطہ آغاز کی تاریخ: وزارت پٹرولیم کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں ڈرلنگ سائیٹ اور بحری جہازوں کی روانگی کی تفصیلی معلومات جاری کی جائیں گی۔
- ماحولیاتی و قانونی منظوری: منسٹری آف کلائمیٹ چینج اور پٹرولیم کنسیشنز ڈویژن کی جانب سے حتمی این او سی پر پیش رفت۔
- سیسمک رپورٹ کا جائزہ: HDIP کی جانب سے ابتدائی نمونوں کے تجزیے کی رپورٹ۔
- مقامی ایندھن کی قیمتوں پر اثر: اگرچہ ڈرلنگ اور پیداوار میں وقت لگتا ہے، لیکن کامیاب دریافت سے آئندہ سالوں میں ایل این جی در آمدات پر انحصار کم ہوگا جس سے بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف مل سکتا ہے۔
