ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ دراصل ایک بے بنیاد ڈرامہ تھا۔ ترک حکام کے مطابق، اس مبینہ سازش کے حوالے سے فراہم کردہ اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ سراسر جھوٹ پر مبنی تھی اور اس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔
donald trump assassination plot کے پیچھے کی حقیقت
ترکیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات ناقابلِ اعتبار تھیں۔ ترک حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انقرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے اور کسی بھی قسم کی ایرانی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے ان رپورٹس کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ پیدا کرنا تھا۔
انٹیلی جنس رپورٹ کیوں مسترد کی گئی؟
سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی رپورٹس کا مقصد بین الاقوامی تعلقات کو خراب کرنا ہوتا ہے۔ ترکیہ نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرے گا جس کے پیچھے کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو۔ اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال میں انٹیلی جنس معلومات کا استعمال کس طرح ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
عالمی سفارتی حلقوں میں اس انکشاف کے بعد کافی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس تردید پر کیا ردِعمل دیتے ہیں۔ پاکستان میں بیٹھے قارئین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست میں انٹیلی جنس رپورٹس کی ساکھ کتنی اہم ہوتی ہے اور کیسے ایک غلط رپورٹ پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ ترکیہ کی جانب سے اس رپورٹ کو 'ڈرامہ' قرار دینے کے بعد نیٹو کے اندر انٹیلی جنس شیئرنگ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
