13 اگست 2026 کی رات کو کراچی میں یوم آزادی کی شب آتش بازی کے دوران کم از کم دو افراد ہلاک اور 94 زخمی ہو گئے، جس کی تصدیق حکام نے جمعے کے روز کی۔

متاثرہ افراد کا تعلق گلشنِ اقبال، لیاقت آباد، کورنگی اور ملیر سمیت کئی علاقوں سے ہے۔ پولیس اور امدادی خدمات نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر (جی پی ایم سی) میں 42 مریض داخل ہوئے، جبکہ سول ہسپتال کراچی (سی ایچ کے) میں 38 زخمیوں کا علاج کیا گیا، جس کی تصدیق پولیس سرجن ڈاکٹر سماۓ سید نے کی۔ ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال (ڈی یو ایچ) میں 14 افراد داخل تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں لیاقت آباد کے محمد علی (28 سال) اور گلشنِ اقبال کے سنا اللہ (35 سال) شامل ہیں، جو سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ اسپتالوں کے ذرائع کے مطابق کم از کم 17 زخمی انتہائی نازک حالت میں ہیں۔

کیا ہوا اور کہاں ہوا

پولیس نے بتایا کہ 13 اگست کی رات 10:30 بجے سے 14 اگست کی صبح 3 بجے کے درمیان کم از کم 23 الگ الگ واقعات رپورٹ ہوئے، جو گھنی آبادی والے رہائشی اور تجارتی علاقوں میں پیش آئے۔ گلشنِ اقبال اور لیاقت آباد میں سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، جہاں گولیاں چھتوں کو چیرتی، کھڑکیاں توڑتی اور عوام الناس کو نشانہ بناتی نظر آئیں۔

  • گلشنِ اقبال: ناظم آباد چورنگی اور گلشنِ میمار کے قریب متعدد گولیاں چلنے کی رپورٹیں، جس میں ایک ہلاکت اور 12 زخمی ہوئے۔
  • لیاقت آباد: لیاقت آباد نمبر 10 اور شاہ فیصل کالونی کے قریب شدید فائرنگ، جس میں ایک ہلاکت اور 15 زخمی ہوئے۔
  • کورنگی: کورنگی نمبر 2 اور لاندھی کے قریب فائرنگ، جس میں 10 افراد زخمی ہوئے۔
  • ملیر: ملیر ہالٹ اور گلزارِ ہجری کے قریب واقعات، جس میں 8 افراد زخمی ہوئے۔

مقامی افراد نے خوف و ہراس کی داستانوں کا ذکر کیا۔ لیاقت آباد کے ایک دکان دار محمد زبیر نے بتایا کہ انھوں نے اپنی دکان کی چھت میں گولی کا نشان دیکھا۔ “ہم نے گولوں کی آواز سنی اور پھر چلانا شروع ہو گیا،” انھوں نے نئے پاکستان کو بتایا۔ “لوگ ہر طرف بھاگے۔ کچھ تو قریبی نالوں میں چھپ گئے۔”

پولیس کا ردِ عمل اور گرفتاریاں

کراچی پولیس نے آپریشن سیف سٹی کو پاکستان رینجرز (سندھ) کے ساتھ مل کر چلایا تاکہ تشدد پر قابو پایا جا سکے۔ ایڈیشنل آئی جی (آپریشنز) جاوید مہسر نے تصدیق کی کہ غیر قانونی ہتھیاروں اور فائرنگ سے متعلق 12 گرفتاریاں کی گئی ہیں، جن میں تین گلشنِ اقبال اور چار لیاقت آباد سے ہیں۔

  • 15 غیر قانونی ہتھیار ضبط کیے گئے، جن میں تین اے کے 47 رائفلز، دو پستول اور دس مقامی ساختہ ہتھیار شامل ہیں۔
  • چار پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے جبکہ وہ ہجوم کو منتشر کرنے اور ہتھیار ضبط کرنے کے دوران زخمی ہوئے۔
  • متاثرہ علاقوں میں موبائل سروسز کو مختصر وقت کے لیے معطل کر دیا گیا تاکہ غلط معلومات کی روک تھام اور سکیورٹی آپریشنز کی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مہسر نے خبردار کیا کہ آتش بازی ایک قابلِ تعزیر جرم ہے جس پر دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کی سزا تین سال قید اور دس ہزار روپے جرمانہ ہو سکتی ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر قانونی ہتھیاروں یا مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع مقامی پولیس یا کرائم اسٹاپرز (1122) پر دیں۔

قانون کیا کہتا ہے آتش بازی کے بارے میں

دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت آتش بازی پر پابندی ہے کیونکہ اس سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 332–338 کے تحت بھی غیر محتاط فائرنگ سے جانی خطرے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

  • جرمانے: پہلی بار جرم کرنے والوں پر پانچ ہزار سے دس ہزار روپے جرمانہ۔ بار بار جرم کرنے والوں پر بیس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کا سامان ہو سکتا ہے۔
  • ضبط: حکام فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو ضبط کر سکتے ہیں۔
  • برادری پولیسنگ: پڑوس کی نگرانی کرنے والے گروپوں کو غیر قانونی ہتھیاروں کی اطلاع @KPoliceOfficial (ٹویٹر) یا @RangersSindh کو دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

بار بار ہونے والی کارروائیوں کے باوجود آتش بازی کراچی، لاہور اور پشاور سمیت کئی شہروں میں تہواروں، شادیوں اور قومی تقریبات کے دوران ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ نے آتش بازی دیکھی ہو یا اس سے متاثر ہوئے ہوں:

  • اگر زخمی ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں115 (ایمرجنسی) پر کال کریں یا قریبی اسپتال پہنچیں۔
  • غیر قانونی ہتھیاروں کی اطلاع دیں اپنے مقامی پولیس اسٹیشن یا کرائم اسٹاپرز (1122) پر۔ جگہ، وقت اور مشتبہ افراد کی تفصیلات فراہم کریں۔
  • تقریبات کے دوران کھلے علاقوں میں اکٹھا ہونے سے گریز کریں۔ اگر ممکن ہو تو گھر کے اندر رہیں۔
  • گھروں میں ہتھیار نہ رکھیں۔ غیر لائسنس یافتہ ہتھیاروں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
  • اپنی جائداد کا معائنہ کریں اگر گولیاں لگی ہوں۔ بیما کے دعووں یا پولیس رپورٹس کے لیے ثبوت (تصاویر/ویڈیوز) اکٹھا کریں۔

قانونی مدد کے لیے لیگل ایڈ سوسائٹی پاکستان (ہیلپ لائن: 021-111-456-456) سے رابطہ کریں یا اپنے قریبی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے دفتر جائیں۔

آگے کیا ہوگا

کراچی انتظامیہ نے آنے والے ہفتوں میں غیر قانونی ہتھیاروں پر شہر بھر میں کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، جس میں چوکوں اور رہائشی علاقوں پر random چیک شامل ہوں گے۔ سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ 16 اگست 2026 کو یوم آزادی کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کرے گا۔

  • پولیس تیز رفتار گشت بڑھائے گی گلشنِ اقبال اور لیاقت آباد جیسے خطرناک علاقوں میں۔
  • عوامی آگاہی مہمات اردو اور سندھی میں چلائی جائیں گی تاکہ عوام کو آتش بازی کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
  • سوشل میڈیا نگرانی ٹیمیں غلط معلومات اور یوم آزادی سے متعلق نفرت انگیز مواد پر نظر رکھیں گی۔

اس کے ساتھ ہی ہلاک شدگان کی نماز جنازہ ان کے مقامی علاقوں میں جمعے کے روز ادا کی گئی۔ زخمیوں کے خاندانوں نے جی پی ایم سی، سی ایچ کے اور ڈی یو ایچ میں خون کے عطیات کی اپیل کی ہے۔

آخری بات: آتش بازی محض بے احتیاطی نہیں، یہ ایک جرم ہے جو جانیں لیتا ہے۔ اگر آپ اسے ہوتے دیکھیں تو رپورٹ کریں۔ اگر آپ کے پاس غیر قانونی ہتھیار ہیں تو قانون آپ کا پیچھا کرے گا۔ اس یوم آزادی پر محفوظ طریقے سے جشن منائیں — بغیر گولیاں چلائے، بغیر خوف کے۔