جمعرات کے روز لاہور کے مصروف علاقے بادامی باغ میں دن دیہاڑے نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین اور ریسکیو ذرائع کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام اور تحقیقاتی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا۔ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر بھر میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور مختلف شاہراہوں پر تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بادامی باغ فائرنگ کے تفصیلات
پولیس ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اچانک ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں دونوں اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے، جن کی لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاریفورس نے جائے وقوعہ اور اس کے گردونواح کے تمام راستوں کو سیل کر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اس طرح کے حملے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز کے لیے بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شہریوں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے اس اندھیر نگری کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عوام کے لیے ہدایات اور آئندہ کے اقدامات
اگر آپ بادامی باغ یا اس کے اطراف میں سفر کرتے ہیں تو پولیس کی جانب سے لگائے جانے والے سیکیورٹی ناکوں اور تلاشی کے عمل میں تعاون کریں۔ اگر کسی شہری کے پاس اس واقعے یا فرار ہونے والے حملہ آوروں کے بارے میں کوئی بھی مفید معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔
آئندہ چند روز میں لاہور بھر میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے اسنیپ چیکنگ میں مزید سختی متوقع ہے۔ حکام کی جانب سے شہید اہلکاروں کے ورثا کے لیے مالی امداد اور سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کے انتظامات کا باقاعدہ اعلان بھی جلد کیا جائے گا۔
