لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں گھریلو تنازع اور تلخ کلامی کے دوران ایک سفاک شخص نے لوہے کے راڈ سے وار کر کے اپنی سگی والدہ سمیت دو خواتین کو قتل کر دیا۔ اس دلخراش واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق پنتّر برس کی عمر کی سلطانہ اور ان کی ہمسائی کنیز فاطمہ کے درمیان مبینہ طور پر گھریلو تلخ کلامی ہوئی۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ غصے میں اندھے ہونے والے ملزم نے گھر میں موجود لوہے کا راڈ اٹھا لیا اور دونوں خواتین پر اندھا دھند تشدد شروع کر دیا۔ شدید چوٹوں کے باعث دونوں خواتین موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

ہربنس پورہ قتل کا پس منظر

ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہربنس پورہ کے ایک رہائشی مکان میں پیش آیا جہاں معمولی خاندانی رنجش نے خونی روپ دھار لیا۔ ملزم نے طیش میں آ کر پہلے اپنی ستر سالہ والدہ سلطانہ پر حملہ کیا اور بیچ بچاؤ کرنے والی ہمسائی کنیز فاطمہ کو بھی نہیں بخشا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا جبکہ جائے وقوعہ سے آلہِ قتل (لوہے کا راڈ) بھی برآمد کر لیا گیا۔

پولیس کی بروقت کارروائی اور گرفتاری

واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے لاہور پولیس نے فوری ایکشن لیا اور ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • مقام: ہربنس پورہ، لاہور
  • مقتولین: ستاّر سالہ سلطانہ اور ہمسائی کنیز فاطمہ
  • آلہِ قتل: لوہے کا راڈ
  • قانونی کارروائی: ملزم پولیس کی حراست میں، تفتیش جاری

قارئین کے لیے ہدایات اور آئندہ کا منظرنامہ

گھریلو جھگڑوں اور ذہنی تناؤ کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بروقت مصالحتی کوششیں اور پولیس مددگار ہیلپ لائنز سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔ معمولی تلخ کلامی کو سنگین جرائم میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے خاندانی سطح پر برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہوگا۔

آئندہ دنوں میں اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق مضبوط شواہد اور موقع پر گرفتاری کی وجہ سے کیس کا ٹرائل جلد آگے بڑھنے کی توقع ہے۔