لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پولیس تحویل کے دوران گھریلو چوری کے شبے میں گرفتار دو نوجوان خواتین پراسرار حالات میں جاں بحق ہو گئیں، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ دونوں خواتین کو گھر سے نقدی اور سونے کے زیورات چرانے کے الزام میں تفتیش کے لیے تھانہ ٹاؤن شپ لایا گیا تھا جہاں ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکار انہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال لے گئے جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اس واقعے کے بعد لواحقین اور علاقہ مکینوں نے تھانے کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام نے تاحال واقعے کی مفصل تفصیلات یا میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔

ٹاؤن شپ تھانے میں کیا پیش آیا

واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب دونوں خواتین کو ایک گھر سے چوری ہونے والی اشیاء کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں معمولی جرائم کی تفتیش کے لیے اکثر باضابطہ ریمانڈ کے بغیر افراد کو تھانے میں بٹھایا جاتا ہے جو قانونی طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تھانے منتقلی کے چند گھنٹوں بعد ورثاء کو بتایا گیا کہ دونوں خواتین کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق خواتین مردہ حالت میں لائی گئی تھیں تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تھانے کے روزنامچے میں اندراج کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر قانونی عمل کی وجہ سے ایسے حادثات پیش آتے ہیں۔

سرکاری ردعمل اور ذمہ داری کا تعین

پولیس تحویل میں اموات کے اس واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ سینئر پولیس حکام نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو یہ دیکھے گی کہ موت تشدد، غفلت یا طبعی وجوہات کی بنا پر ہوئی۔ تاہم قانونی ماہرین اور شہریوں کو اندرونی پولیس تحقیقات پر تحفظات ہیں کیونکہ ماضی میں ایسے معاملات میں شاذ و نادر ہی ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا ملتی ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان کا مطالبہ ہے کہ پوسٹ مارٹم اور سی سی ٹی وی فوزج کی جانچ پڑتال کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کو شامل کیا جائے۔

آپ کو کیا قدم اٹھانا چاہیے

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا پاکستان میں غیر قانونی حراست یا پولیس زیادتی کا شکار ہو جائے تو فوری قانونی اقدامات کرنا آپ کا حق ہے۔

  • اگر کسی عزیز کو غیر اعلانیہ حراست میں لیا جائے تو فوری طور پر انسانی حقوق کے کمیشن (HRCP) یا مقامی قانونی امداد کے گروپوں سے رابطہ کریں۔
  • وکیل کی موجودگی کے بغیر کسی بھی کاغذ پر دستخط کرنے یا بیان دینے سے گریز کریں۔
  • تھانے کے روزنامچے میں باضابطہ اندراج کا مطالبہ کریں تاکہ گرفتاری کا قانونی ریکارڈ موجود ہو۔
  • اگر پولیس کسی شخص کی گرفتاری ظاہر کرنے سے انکار کرے تو لاہور ہائی کورٹ میں فوری طور پر ہیبی کارپس رٹ دائر کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران تمام تر توجہ سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سی سی پی او کی تحقیقاتی ٹیم کے فیصلوں پر مرکوز ہوگی۔ اس دوران ایس ایچ او اور تفتیشی افسران کی معطلی یا گرفتاری کے امکانات کا جائزہ لیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواستیں یہ طے کریں گی کہ پنجاب کے تھانوں میں اس قسم کے حراستی تشدد کی روک تھام کے لیے کوئی جوڈیشل کمیشن بنایا جاتا ہے یا نہیں۔