جاپان میں سمندری طوفان 'ڈولفن' (Typhoon Dolphin) نے شدید تباہی مچانا شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں حکام نے جنوب مغربی علاقوں میں تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم دیا ہے۔ طوفان کی وجہ سے تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انفراسٹرکچر اور سفری نظام پر اثرات
اس طوفان کے باعث جاپان کے جنوب مغربی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ درجنوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی اور غیر ملکی مسافر ایئرپورٹس پر پھنس گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور بارشوں کے امتزاج سے نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے۔
حفاظتی اقدامات اور ہدایات
جاپان میں موجود پاکستانیوں، بشمول طلبا اور کاروباری افراد، کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ الرٹس پر کڑی نظر رکھیں۔ جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی (JMA) کی ویب سائٹ کو مسلسل چیک کرتے رہیں تاکہ طوفان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہ سکیں۔
- اپنی ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔
- دریاؤں اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
- اپنی حفاظت کے لیے قریبی پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ قائم رکھیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
ماہرینِ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت اگلے 48 سے 72 گھنٹوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران پروازوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں تاخیر متوقع ہے۔ اگر آپ سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایئرلائن کی ویب سائٹ پر پرواز کی تصدیق ضرور کریں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔
