متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے اب ویزا درخواست جمع کرانے سے پہلے یو اے ای ویزا پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سیکیورٹی کے عمل کو بہتر بنانے اور ملازمین کی جانچ پڑتال کے لیے متعارف کرایا گیا یہ نیا قانون باقاعدہ طور پر 20 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو جائے گا۔

اگر آپ دبئی، ابوظہبی یا امارات کی کسی بھی دوسری ریاست میں نوکری حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ سرٹیفکیٹ اب آپ کے پاسپورٹ جتنا ہی اہم ہے۔ اس دستاویز کے بغیر جمع کرائی جانے والی ورک پرمٹ کی کوئی بھی درخواست فوری طور پر مسترد کر دی جائے گی۔

پاکستان میں اس سرٹیفکیٹ کے حصول، اس کی فیس اور وزارت خارجہ سے تصدیق کا مکمل اور آسان طریقہ درج ذیل ہے۔

یہ شرط کس کے لیے لازمی ہے؟

یہ نیا قانون صرف ان پاکستانی شہریوں پر لاگو ہوتا ہے جو متحدہ عرب امارات کے نئے ورک ویزا یا ایمپلائمنٹ ویزا کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امارات آنے والے ملازمین کا پاکستان میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔

  • لازمی ہے: تمام نئے ملازمین کے لیے (خواہ وہ ہنر مند ہوں، نیم ہنر مند ہوں یا عام مزدور)۔
  • استثنیٰ: سیاحتی یا وزٹ ویزا پر جانے والے افراد، فیملی ریزیڈنسی ویزا اور ٹرانزٹ ویزا کے حامل مسافر فی الحال اس شرط سے مستثنیٰ ہیں۔
  • میعاد: ویزا درخواست جمع کراتے وقت یہ سرٹیفکیٹ 6 ماہ سے زیادہ پرانا نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان میں پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ

پنجاب میں پولیس خدمت مرکز (PKM) اور سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قائم ڈیجیٹل مراکز کی بدولت اب پولیس کلیئرنس حاصل کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔

سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے ان مراحل پر عمل کریں:

مرحلہ 1: ضروری دستاویزات کی تیاری

کسی بھی مرکز پر جانے سے پہلے درج ذیل دستاویزات اپنے پاس رکھ لیں:
- اصل شناختی کارڈ (CNIC) اور اس کی دو عدد فوٹو کاپیاں۔
- اصل پاسپورٹ (جو کم از کم 6 ماہ کے لیے کارآمد ہو) اور اس کی دو عدد فوٹو کاپیاں۔
- سفید بیک گراؤنڈ کے ساتھ دو عدد تازہ ترین پاسپورٹ سائز تصاویر۔
- اگر درخواست گزار بیرون ملک مقیم ہے تو اس کے کسی قریبی رشتہ دار کے پاس اتھارٹی لیٹر ہونا ضروری ہے۔
- موجودہ رہائشی پتے کا ثبوت (جیسے بجلی کا بل یا کرایہ نامہ)۔

مرحلہ 2: پولیس خدمت مرکز یا ایس ایس پی آفس کا دورہ

پنجاب کے رہائشی کسی بھی قریبی پولیس خدمت مرکز جا سکتے ہیں۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے رہائشیوں کو متعلقہ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SSP) کے دفتر یا مخصوص سہولتی مراکز جانا ہوگا۔
- وہاں پہنچ کر "پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ" کا ٹوکن حاصل کریں۔
- کاؤنٹر پر موجود نمائندہ آپ کے بائیومیٹرکس (انگوٹھوں کے نشانات) لے گا اور نادرا کے ڈیٹا بیس سے تصدیق کرے گا۔
- آپ کو ایک فارم دیا جائے گا جس میں آپ کو اپنے موجودہ اور مستقل پتے کی تفصیلات درج کرنی ہوں گی۔

مرحلہ 3: فیس کی ادائیگی

مختلف صوبوں میں اس سرٹیفکیٹ کی فیس درج ذیل ہے:
- پنجاب: 500 روپے (جو خدمت مرکز کے کاؤنٹر پر یا آن لائن ادا کی جا سکتی ہے)۔
- سندھ اور خیبر پختونخوا: 300 سے 500 روپے کے درمیان۔
- بلوچستان: تقریباً 300 روپے ۔
ادائیگی کی رسید اپنے پاس محفوظ رکھیں کیونکہ اسی کے ذریعے آپ اپنے سرٹیفکیٹ کا اسٹیٹس چیک کر سکیں گے۔

مرحلہ 4: تصدیقی عمل اور وقت

درخواست جمع ہونے کے بعد مقامی پولیس اہلکار آپ کے دیے گئے پتے کی تصدیق کریں گے اور یہ چیک کیا جائے گا کہ متعلقہ تھانے میں آپ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج تو نہیں۔ اس پورے عمل میں 3 سے 7 ورکنگ ڈیز لگتے ہیں۔

تصدیق مکمل ہونے پر آپ کو موبائل پر ایس ایم ایس موصول ہوگا، جس کے بعد آپ اسی مرکز سے اپنا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

مرحلہ 5: وزارت خارجہ (MOFA) سے تصدیق

صرف پولیس سرٹیفکیٹ حاصل کر لینا کافی نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے لیے اسے قابل قبول بنانے کے لیے وزارت خارجہ (MOFA) پاکستان سے اس کی تصدیق کرانا لازمی ہے۔

  1. وزارت خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن اپائنٹمنٹ حاصل کریں یا حکومت سے منظور شدہ کورئیر سروسز (جیسے TCS، Gerry's یا Leopards) کے ذریعے دستاویزات بھیجیں۔
  2. وزارت خارجہ کی تصدیقی فیس 1,000 روپے فی دستاویز ہے۔
  3. کورئیر سروس کے ذریعے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ 3 سے 5 دنوں میں آپ کے پتے پر واپس پہنچا دیا جائے گا۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو امارات سے ملازمت کی پیشکش موصول ہو چکی ہے، تو آخری وقت کا انتظار نہ کریں۔ 20 جولائی 2026 کے بعد بغیر تصدیق شدہ پولیس سرٹیفکیٹ کے جمع کرائی جانے والی تمام درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی۔

ویزے کے لیے فائل جمع کرانے سے کم از کم تین ہفتے قبل اس عمل کا آغاز کریں تاکہ پولیس تصدیق اور وزارت خارجہ کی مہر لگنے تک کا وقت باآسانی مل سکے۔