متحدہ عرب امارات کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزا کے اجرا کا عمل باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس سے ملک بھر کے مسافروں، ملازم پیشہ افراد اور کاروباری طبقے کو بڑی راحت ملی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں سفارتی ذرائع اور متعلقہ مراکز نے تصدیق کی ہے کہ سیاحتی، روزگار اور خاندانی ملاقاتوں کے زمرے میں درخواستیں اب باقاعدگی سے قبول کی جا رہی ہیں۔
اس پالیسی تبدیلی سے ان ہزاروں درخواست گزاروں کی مشکلات کا ازالہ ہو گیا ہے جن کے کاغذات سخت جانچ پڑتال کے عمل کی وجہ سے التوا کا شکار تھے۔ بڑے شہروں میں ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد دبئی، ابوظہبی اور دیگر امارات جانے کے خواہشمند افراد کی جانب سے پوچھ گچھ میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کن کیٹگریز کے ویزے دوبارہ شروع ہوئے ہیں؟
نئے فیصلے کے تحت ویزا پروسیسنگ کے دائرہ کار میں مختلف شعبوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو سفر میں آسانی مل سکے:
- روزگار کے ویزے: تصدیق شدہ نوکری کے معاہدے رکھنے والے ماہر اور ہنر مند کارکن اب اپنے ورک پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔
- سیاحتی اور وزٹ ویزے: تفریح کی غرض سے جانے والے اور رشتہ داروں سے ملنے والے افراد مختصر مدت کے اجازت ناموں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
- خاندانی ویزے: خلیجی ریاست میں مقیم پاکستانی اب ایک بار پھر اپنی بیویوں اور بچوں کے لیے اسپانسر شپ کے ذریعے ویزا بنوا سکیں گے۔
درخواست جمع کرانے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور تصدیق شدہ تعلیمی اسناد سمیت تمام مطلوبہ کاغذات مکمل ہوں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ طویل عرصے سے اپنے کاغذات جمع کرانے کا انتظار کر رہے تھے تو فوری طور پر مجاز ٹریول سروس فراہم کنندگان یا آن لائن پورٹلز سے رابطہ کریں۔ سیاحتی ویزا کے حصول کے لیے اپنے پاسپورٹ کی کاپی، بینک اسٹیٹمنٹس اور واپسی کے تصدیق شدہ ٹکٹ ساتھ رکھیں۔ غیر مصدقہ ایجنٹس کے وعدوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے ہمیشہ منظور شدہ ذرائع کا انتخاب کریں تاکہ آپ کا وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے ہفتوں میں سفارت خانوں اور ویزا مراکز پر درخواستوں کے ابتدائی رش کے دوران پروسیسنگ کے وقت پر نظر رکھیں۔ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا منظوری کا تناسب معمول پر آتا ہے یا مخصوص پیشہ ور افراد کے لیے اضافی شرائط برقرار رہتی ہیں۔ تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے بااعتماد ذرائع پر نظر رکھیں۔
