پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات کا ورک ویزا حاصل کرنے کا طریقہ کار اب مزید سخت ہو چکا ہے کیونکہ یو اے ای حکام نے روزگار کے خواہشمند تمام امیدواروں کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔ اگر آپ خلیجی ریاست میں نوکری کا ارادہ رکھتے ہیں تو اب کاغذات کی تیاری میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یو اے ای کے اداروں نے تصدیق کے عمل کو انتہائی سخت کر دیا ہے، یعنی اب ویزا جاری ہونے سے پہلے آپ کی ڈگری سے لے کر پولیس ریکارڈ تک ہر چیز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
یو اے ای ایمپلائمنٹ ویزا کے لیے کون اہل ہے؟
اہلیت کا دارومدار بنیادی طور پر آپ کے متوقع آجر، آپ کی مہارت اور میڈیکل و سیکیورٹی کلیئرنس پر ہے۔ عام طور پر امیدواروں کا تعلق ہنر مند، انتظامی، تکنیکی یا فزیکل لیبر کے زمروں سے ہوتا ہے۔ آپ کے پاس یو اے ای کی کسی رجسٹرڈ کمپنی کی جانب سے نوکری کا تصدیق شدہ افر لیٹر ہونا ضروری ہے جو آپ کی اسپانسرشپ کی ذمہ داری لے۔ آپ کا پاسپورٹ کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد ہونا چاہیے اور آپ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہئے۔
درخواست دینے کا مرحلہ وار طریقہ
ایک بار جب آپ کا آجر یو اے ای کی طرف سے پروسیس شروع کر دے تو آپ کو تاخیر سے بچنے کے لیے اپنے حصے کے کاغذات فوری جمع کروانا ہوں گے۔
- نوکری کی پیشکش قبول کریں: ایم او ایچ آر ای کے توسط سے ملنے والے باضابطہ معاہدے کا جائزہ لیں اور دستخط کریں۔
- پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کریں: اپنے قریبی پولیس خدمت مرکز یا آن لائن پورٹل کے ذریعے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کریں۔ یہ دستاویز اب بنیادی شرط ہے۔
- میڈیکل فٹنس ٹیسٹ: لاہور، کراچی یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں جی سی سی کے منظور شدہ سینٹر سے میڈیکل ٹیسٹ کروائیں۔
- ڈگری کی تصدیق: اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی تعلیمی اسناد ایچ ای سی، وزارت خارجہ (موفا) اور پاکستان میں یو اے ای سفارتخانے سے تصدیق شدہ ہوں۔
- ویزا اسٹیمپنگ: انٹری اپروول ملنے کے بعد اپنا پاسپورٹ حتمی ویزا اسٹیمپنگ کے لیے متعلقہ کوریئر سروس یا آن لائن پورٹل پر جمع کروائیں۔
اخراجات اور وقت کا تخمینہ
اپنے سفر کے لیے بجټ بناتے وقت سرکاری فیس اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھیں۔ پولیس سرٹیفکیٹ کی فیس ناممکن حد تک کم ہے لیکن میڈیکل ٹیسٹ کے اخراجات سینٹر کے لحاظ سے آٹھ سے پندره ہزار روپے تک ہو سکتے ہیں۔ ڈگری کی تصدیق اور کوریئر کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ پہلا تنخواہ ملنے سے پہلے کے یہ اخراجات آپ کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔ تمام عمل عام طور پر تین سے چھ ہفتے لیتا ہے بشرطیکہ آپ کے بیک گراؤنڈ چیک میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے?
ایجنٹوں کے وعدوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے کاغذات خود درست کریں۔ فوری طور پر قریبی خدمت مرکز جا کر پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دیں اور چیک کریں کہ آپ کی اسناد پر موفا کی مہر موجود ہے۔ دستاویزات تیار رکھنے سے آپ انٹرویو کے عمل میں سب سے آگے رہیں گے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
روانہ ہونے والے پاکستانی ورکرز کے لیے ہوائی اڈوں پر بائیو میٹرک تصدیق سے متعلق نئی ہدایات پر نظر رکھیں۔ امیگریشن حکام اکثر ضوابط تبدیل کرتے رہتے ہیں، اس لیے سرکاری ذرائع سے باخبر رہنا آپ کو آخری وقت کی پریشانی سے بچائے گا۔
