برطانیہ میں شدید گرمی کا 31 سالہ ریکارڈ پاش پاش ہو گیا ہے، جہاں ملک رواں سال گرمی کی پانچویں لہر کی لپیٹ میں ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت مسلسل 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس نے 1995 کے تاریخی گرم موسم کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
برطانیہ میں شدید گرمی کی صورتحال
برطانیہ بھر میں جاری اس ہیٹ ویو کے پیشِ نظر حکام نے 'بلیو الرٹ' جاری کر دیا ہے۔ شدید گرمی کے ساتھ ساتھ ملک میں خشک سالی کی صورتحال بھی برقرار ہے، جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معمولاتِ زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ صحت عامہ کے اداروں کے لیے بھی چیلنج بن چکی ہے۔
- رواں سال برطانیہ میں گرمی کی یہ پانچویں بڑی لہر ہے۔
- درجہ حرارت 1995 کے ریکارڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
- شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث پانی کے استعمال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
اگر آپ برطانیہ میں موجود ہیں تو شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔ دوپہر کے اوقات میں بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور خود کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے پانی کا وافر استعمال کریں۔ خصوصی طور پر بزرگ شہریوں اور سانس کے مریضوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹھنڈے مقامات پر قیام کریں اور براہِ راست دھوپ میں جانے سے بچیں۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ بلیو الرٹ کا مقصد شہریوں کو متنبہ کرنا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے عوامی مقامات پر بھی احتیاطی انتظامات سخت کر دیے ہیں تاکہ ہیٹ اسٹروک کے واقعات کو روکا جا سکے۔
آئندہ کے حالات
ماہرینِ موسمیات اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ ہیٹ ویو مزید کتنے دن جاری رہے گی۔ فی الحال صورتحال یہ ہے کہ خشک سالی کے باعث دیہی علاقوں میں آگ لگنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین اپ ڈیٹس دیکھتے رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
