الٹرا پراسیس غذائیں جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ چپکے سے آپ کی ذہنی صحت کو بھی برباد کر رہی ہیں، جو کہ ایک اہم طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ اگرچہ پیک شدہ کھادے، میٹھے مشروبات اور بازار کے کھانے طویل عرصے سے پاکستان میں موٹاپے اور دل کی بیماریوں کی وجہ سمجھے جاتے رہے ہیں، لیکن اب ماہرین نے انہیں براہ راست ذہنی دباؤ میں اضافے سے بھی جوڑ دیا ہے۔ یہ اہم طبی انکشاف امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے، جس میں ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ماہرین بھی شامل تھے۔
ہارورڈ کی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں مقامی ڈاکٹر اور غذائی ماہرین طویل عرصے سے لوگوں کو جংক فوڈ کے جسمانی نقصانات سے خبردار کرتے آئے ہیں۔ تاہم، اس تازہ ترین امریکی تحقیق نے توجہ دماغی کیمیا کی طرف مبذول کرائی ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ صنعتی کھادوں کا استعمال—جیسے کہ کمرشل بسکٹ، پیک جوس، پراسیس شدہ گوشت اور انسٹنٹ نوڈلز—جسم میں دائمی سوزش پیدا کرتے ہیں۔ یہ سوزش بالآخر دماغ تک پہنچ جاتی ہے، نیورو ٹرانسمیٹرز کو متاثر کرتی ہے اور باقاعدگی سے یہ چیزیں کھانے والوں میں بے چینی، مستقل اداسی اور شدید ذہنی تھکن کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔
پاکستانی کھانوں کی موجودہ حقیقت
شہری پاکستانی گھرانوں میں سہولت کی ثقافت بڑھنے کے ساتھ ہی الٹرا پراسیس اشیاء پر انحصار آسمان کو چھونے لگا ہے۔ آپ کسی بھی مقامی جنرل اسٹور یا سپر مارکیٹ میں چلے جائیں، شیلفز ایسے سستے اور بھاری کیمیکل والے کھانوں سے بھرے ملیں گے جو مصروف طلباء اور ملازم پیشہ افراد کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ سستی کیلوریز ذہنی صحت کی بھاری قیمت پر ملتی ہیں۔ جب آپ کی روزمرہ کی خوراک میں تازہ سبزیوں، ثابت غلہ اور روایتی گھر کے پکوانوں کی کمی ہو جاتی ہے، تو آپ کا معدہ اور نظامِ ہضم متاثر ہوتا ہے۔ چونکہ پیٹ اور دماغ کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے، اس لیے خراب نظامِ ہضم براہ راست کمزور ذہنی صلاحیت کا سبب بنتا ہے اور آپ روزمرہ کے تناؤ کا جلدی شکار ہو جاتے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اپنی ذہنی صحت کو بچانے کے لیے فیکٹری کے بنے ہوئے سہولت والے کھانوں سے جان چھڑانا اور صحت مند غذا کی طرف واپس آنا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے آپ کو کسی مہنگی درآمد شدہ خوراک کی ضرورت نہیں، بلکہ کچن کی چھوٹی سی تبدیلی بڑا فرق ڈال سکتی ہے:
- میٹھے کولڈ ڈرنکس اور پیک شدہ جوس کی بجائے لیموں پانی، لسی یا سادہ پانی کا استعمال کریں۔
- بازار کے بسکٹ اور سنیکس کی جگہ بھنے ہوئے چنے، کھجوریں یا ساتی پھل استعمال کریں۔
- پیک شدہ یا فروزن کھانوں پر انحصار کرنے کے بجائے قریبی سبزی منڈی سے تازہ اشیاء خرید کر گھر پر کھانا پکائیں۔
- اپنے خاندان کی ہفتہ وار انسٹنٹ نوڈلز اور پراسیس شدہ ساس کے استعمال میں بتدریج کمی لائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
صنعتی فوڈ ایڈیٹوز کے حوالے سے مقامی غذائی اداروں کی جانب سے آنے والی نئی صحت عامہ کی ہدایات پر نظر رکھیں۔ طبی محققین مسلسل یہ جانچ رہے ہیں کہ مخصوص مصنوعی اجزاء اور کیمیکل پرزرویٹوز طویل عرصے تک استعمال کرنے پر یادداشت اور موڈ کے امراض کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے پاکستان میں صارفین میں آگاہی بڑھ رہی ہے، توقع ہے کہ زیادہ ماہرین غذائیت پیک شدہ اشیاء پر واضح وارننگ لیبل لگانے کا مطالبہ کریں گے جن میں چینی، نمک اور کیمیکل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
