اقوام متحدہ نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی حیثیت پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نیویارک میں عالمی ادارے کے ذرائع سے جاری ہونے والے موقف کے مطابق، متنازع علاقے کے حوالے سے عالمی ادارے کی پالیسی اور پوزیشن بدستور برقرار ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہوگی کہ اس تازہ بیان نے علاقائی سفارت کاری میں ایک بار پھر کشمیر کے دیرینہ تنازع کو اجاگر کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے موقف کی بنیادی شقیں
عالمی ادارے نے زور دے کر کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حتمی اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، شملہ معاہدے اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور بین الاقوامی قانونی ماہرین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی یکطرفہ اقدام سے تنازع کی نوعیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
- اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری
- شملہ معاہدے جیسے دو طرفہ فریم ورک کا احترام
- خطے کے تمام باسیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ
- متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے والے یکطرفہ فیصلوں کو تسلیم نہ کرنا
پاکستان کے لیے اس پوزیشن کی اہمیت
اسلام آباد کے پالیسی سازوں اور عام شہریوں کے لیے اقوام متحدہ کا یہ تازہ بیان سفارتی محاذ پر ایک اہم پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ عالمی طاقتیں اپنے معاشی مفادات کی خاطر تنازعات پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے اس طرح کے بیانات سے جموں و کشمیر کی حیثیت پر قراردادوں کی قانونی حیثیت کو زندہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ عام پاکستانی اس مسئلے کو اپنے جذبات اور قومی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔
آئندہ سفارتی پیش رفت میں کیا دیکھنا چاہیے
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاسوں اور سیکرٹری جنرل کے بیانات پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پاکستان اس سفارتی حمایت کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔ آپ کو اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی پریس ریلجز کا بھی جائزہ لینا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عالمی ادارے کے اس موقف کو بین الاقوامی فورمز پر کس انداز میں اٹھایا جائے گا۔
