پاکستان میں خونریز حملوں میں اضافے کے پیچھے افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو حاصل حمایت کارفرما ہے، یہ انکشاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مانیٹرنگ گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

پاکستان میں خونریز حملوں میں اضافہ

رواں ہفتے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر جان لیوا حملوں میں ٹی ٹی پی کا ہاتھ ہے، جسے افغان سرزمین سے سہولت کاری اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی حراست

دوسری جانب، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اقوام متحدہ نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کی حکومت نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن سے وابستہ دو مقامی افغان ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے ان اہلکاروں کو حراست میں لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں، لیکن یہ واقعہ کابل میں موجود حکام اور عالمی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

قومی سلامتی پر اثرات

ان رپورٹوں کا مجموعی تاثر پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے اس کا مطلب سیکیورٹی حصار میں اضافہ، نقل و حرکت پر پابندیاں اور سرحدی علاقوں میں مستقل خوف و ہراس کی فضا ہے۔ حکومت پاکستان بارہا کابل سے مطالبہ کر چکی ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے، تاہم اقوام متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اب بھی افغان حکام کی جانب سے ملنے والی حمایت سے مستفید ہو رہی ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل پر نظر

آنے والے دنوں میں دفتر خارجہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کیا ردعمل آتا ہے، اس پر سب کی نظریں ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ان تعلقات کی تصدیق کے بعد، عالمی برادری پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ افغان حکام کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے اعلانات پر نظر رکھیں اور حساس علاقوں کے سفر سے گریز کریں۔