اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ غیر محفوظ ہے کیونکہ اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں عارضی خیمہ اسکولوں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر کے مطابق انکلیو میں بچوں اور خاندانوں کے لیے حالات بدستور خطرناک ہیں۔ تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے ہزاروں طلباء کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔
شہری بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے
فوجی کارروائیوں نے بار بار خیموں کے اندر قائم عارضی تعلیمی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ انتظامات ان بچوں کے لیے کیے گئے تھے جنہوں نے دو سالہ تنازع کے دوران اپنے اسکول کھو دیے تھے۔ گنجان آباد علاقوں میں رہائشی عمارتیں بھی براہ راست حملوں کی زد میں آئیں، جس سے بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
- اہم ہدف: عارضی خیمہ اسکول اور تعلیمی خیمے
- متاثرہ علاقہ: غزہ کی پٹی
- وقت: اکتوبر کے اسرائیل حماس معاہدے کے بعد جاری کارروائیاں
- متعلقہ ادارہ: اقوام متحدہ کا دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور
طلباء اور تعلیم پر اثرات
فوجی حملوں کے جاری رہنے کا مطلب یہ ہے کہ طلباء محفوظ کلاس رومز میں واپس نہیں جا سکتے۔ اساتذہ اور کمیونٹی رہنماؤں کو خطرے کے سائے میں بنیادی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تعلیمی اداروں کو زمینی سطح پر محفوظ حیثیت حاصل نہیں رہی، جس سے پڑھائی کے دوران بچے غیر محفوظ ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
شہری آبادی کی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے اقوام متحدہ کے مصدقہ ذرائع سے بین الاقوامی انسانی امداد کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں۔ خطے میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسکولوں اور اسپتالوں کے تحفظ کے لیے دباؤ برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی بیداری پر انحصار کرتی ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد اور امدادی کارکنوں کے لیے ممکنہ نئے سکیورٹی راہداریوں کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں کی سفارتی کوششوں کا جائزہ لیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مزید رپورٹس متوقع ہیں کیونکہ جائزہ ٹیمیں تعلیمی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگا رہی ہیں۔
