پشاور یونیورسٹی (UoP) کی سنڈیکیٹ نے ایک اہم فیصلے کے تحت 20 تعلیمی شعبہ جات کو ضم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی کو درپیش شدید مالی دباؤ اور مختلف پروگراموں میں طلباء کے داخلوں میں مسلسل کمی کے بعد کیا گیا ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں انضمام کی وجوہات

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، یہ اقدام مالی وسائل کے بہتر استعمال اور انتظامی اخراجات کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یونیورسٹی کو ایسے شعبہ جات کو چلانے میں مشکلات کا سامنا تھا جہاں طلباء کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ مالی بحران اور سرکاری گرانٹس میں کمی کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس اب ان شعبہ جات کو ضم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔

طلباء اور اساتذہ پر اثرات

اس فیصلے کے بعد طلباء اور فیکلٹی ارکان میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تاحال یونیورسٹی کی جانب سے اس بات کا واضح لائحہ عمل جاری نہیں کیا گیا ہے کہ انضمام کے بعد موجودہ طلباء کی ڈگریوں اور نصاب پر کیا اثر پڑے گا۔ طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ uop.edu.pk کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔

مستقبل کے اقدامات

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو مالی خود مختاری اور کفایت شعاری اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کا یہ فیصلہ اسی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ انضمام یونیورسٹی کے مالیاتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا یا انتظامیہ کو مزید سخت فیصلوں کی ضرورت پڑے گی۔