گلگت بلتستان میں unregulated placer gold mining قومی انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔

ماحولیاتی حکام نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف اپنی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (GB-EPA) نے حال ہی میں ہنزہ میں ایک بڑی کان کنی کی جگہ کو سیل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کان کنی کے غیر معیاری طریقے پہاڑی ڈھلوانوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں، جس سے سڑکیں، پل اور مقامی آبادی خطرے میں ہے۔

غیر قانونی کان کنی کے خطرات

ماہرین کے لیے سب سے بڑی تشویش کان کنی کے عمل میں پانی کا بے دریغ استعمال ہے۔ کان کن سونے کی تلاش میں مقامی پانی کے ذرائع کا رخ موڑ دیتے ہیں اور آلودہ پانی کو بغیر کسی فلٹریشن کے واپس دریائوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں:

  • زمین کا کٹاؤ بڑھتا ہے جو سڑکوں کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔
  • پانی کے ذخائر آلودہ ہوتے ہیں جو زراعت کو متاثر کرتے ہیں۔
  • دریاؤں میں مٹی اور ریت جمع ہونے سے دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کی ہائیڈرولوجی متاثر ہوتی ہے۔

قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ

دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی توانائی اور پانی کی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی جو دریائے سندھ کے بہاؤ کو تبدیل کرے یا جغرافیائی بنیاد کو کمزور کرے، قومی منصوبوں کی حفاظت کے لیے خطرہ ہے۔ حکام نے تنبیہ کی ہے کہ غیر قانونی کان کن بغیر کسی ماحولیاتی جائزے کے کام کر رہے ہیں، جو خطے کے اہم ترین منصوبوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ گلگت بلتستان کے رہائشی ہیں یا وہاں سیاحت کے لیے موجود ہیں تو ان باتوں کا خیال رکھیں:

  • مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دیں: اگر آپ دریاؤں کے قریب بھاری مشینری یا پانی کا غلط استعمال دیکھیں تو فوری طور پر GB-EPA کے دفتر سے رابطہ کریں۔
  • غیر تصدیق شدہ ذرائع سے سونا خریدنے سے گریز کریں: اس سے غیر قانونی کان کنی کی مانگ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
  • پائیدار سیاحت کی حمایت کریں: ہنزہ جیسے علاقوں میں سیاحت کے دوران ماحولیاتی ضوابط پر عمل کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

امید ہے کہ صوبائی حکومت کان کنی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے جلد ایک جامع پالیسی جاری کرے گی۔ آپ کو گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے کان کنی کے لائسنس کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ ایجنسی نے عندیہ دیا ہے کہ مزید چھاپے مارے جائیں گے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے ان سرگرمیوں کو روکنے کی صلاحیت ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ وہ خطے کے نازک ماحول کو کیسے محفوظ رکھتی ہے۔