اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں سوات میں ہونے والے سوات خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے عالمی سطح پر افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور وہاں موجود محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سلامتی کونسل کی مذمت

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک نے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل کابل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کو "گھناؤنا اور بزدلانہ" قرار دیا۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی ہر قسم عالمی امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان نے عالمی فورم پر اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان کا موقف اور سرحدی سیکیورٹی

پاکستان کا دیرینہ موقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے افغان سرحد پار موجود عناصر کا ہاتھ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک کی جانب سے دہشت گردوں کو ملنے والی پناہ گاہیں پاکستان کے اندر بدامنی کا باعث بن رہی ہیں۔ سفارتی سطح پر پاکستان اب عالمی برادری پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغان حکام سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

اہم نکات

- یہ افسوسناک واقعہ سوات کی تحصیل کابل میں پیش آیا جہاں دہشت گردوں نے پولیس کو نشانہ بنایا۔
- سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
- پاکستان نے سرحد پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایات

ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خاص طور پر حساس علاقوں میں غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ حکومت کی جانب سے سرحد پار سے دراندازی روکنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی پروٹوکولز میں مزید سختی متوقع ہے، لہذا سرکاری اعلانات اور وزارت داخلہ کی ہدایات پر عمل کریں۔