امریکہ نے روایتی گولہ بارود کے ذخائر میں شدید کمی کے بعد ایک نیا اور کم قیمت ڈرون شکن میزائل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں لڑی جانے والی حالیہ جنگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مہنگے فضائی دفاعی نظام اب کم لاگت والے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے مالی طور پر پائیدار نہیں رہے۔ اس صورتحال نے عالمی افواج کو اپنے دفاعی نظام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
فضائی دفاع میں لاگت کا بحران
گزشتہ کئی سالوں سے بڑی طاقتیں اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے انتہائی مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظاموں پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ تاہم، حالیہ تنازعات میں سستے اور بڑے پیمانے پر تیار کردہ بغیر پائلٹ کے طیاروں نے جنگی حکمت عملی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ جب کوئی فوج چند ہزار ڈالر مالیت کے ڈرون کو گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر کا میزائل فائر کرتی ہے، تو اس کے نتیجے میں گولہ بارود کے ذخائر تیزی سے ختم ہوجاتے ہیں۔
- روایتی انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمتیں لاکھوں ڈالرز میں ہیں
- سستے ڈرونز بہت کم لاگت میں تیار کیے جاتے ہیں
- میزائلوں کے جلدی ختم ہونے سے دفاعی تیاری متاثر ہوتی ہے
- سستی متبادل ٹیکنالوجی اب اولین ترجیح بن چکی ہے
سستے ڈرون شکن نظام کی طرف منتقلی
اس نئے امریکی فیصلے کا بنیادی مقصد ایسے ہلکے اور اقتصادی میزائل تیار کرنا ہے جو دفاعی بجٹ پر زیادہ بوجھ ڈالے بغیر فضائی خطرات کو ناکام بنا سکیں۔ دفاعی انجینئرز اب انتہائی طویل فاصلے کی صلاحیتوں کے بجائے پروڈکشن کی رفتار اور کم لاگت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگرچہ اہم اہداف کے لیے روایتی نظام اپنی جگہ برقرار رہیں گے، لیکن یہ نئے میزائل بڑی تعداد میں آنے والے ڈرونز سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیے جا رہے ہیں۔
عالمی دفاعی رجحانات پر اثرات
جیسے جیسے دفاعی ٹیکنالوجی غیر روایتی جنگی طریقوں کی طرف بڑھ رہی ہے، فوجی تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ دیگر ممالک بھی اسی راستے پر چلیں گے۔ وہ ممالک جو روایتی فضائی دفاع میں بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں، اپنے ذخائر کو بچانے کے لیے ان تبدیلیوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقبل میں دفاعی برتری اسی ملک کو حاصل ہوگی جو کم لاگت اور موثر پیداوار میں توازن رکھ سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے مہینوں میں پینٹاگون کی خریداری کے اعلانات اور دفاعی صنعت کے پروٹو ٹائپس پر نظر رکھیں۔ جیسے ہی یہ کم قیمت میزائل پروگرام تجرباتی مراحل سے گزریں گے، ان کی کامیابی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آنے والے وقت میں جنگیں کس طرح لڑی جائیں گی۔
