واشنگٹن، تہران اور مسقط کے مابین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم عبوری معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس ساٹھ روزہ عبوری معاہدے کا باضابطہ اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے، جس کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ سے تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا ہے۔
مذاکرات کا فیصلہ کن مرحلہ اور عمان کا کردار
عمان کی ثالثی میں کئی ہفتوں سے جاری خفیہ اور براہ راست مذاکرات اب رنگ لاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فریقین کے درمیان یہ عارضی فارمولا اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔
- معاہدے کی مدت ساٹھ دن پر مشتمل ہوگی۔
- اس دوران دونوں فریقین بحری جہازوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔
- عمان کی جانب سے اس پورے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔
پاکستانی معیشت اور تیل کی سپلائی پر اثرات
پاکستان جیسے ممالک کے لیے جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، اس آبنائے کی بندش یا خطرات براہ راست جیب پر اثر ڈالتے ہیں۔ جب بھی خلیجی راستوں میں بحران پیدا ہوتا ہے، اوگرا اور وزارتِ خزانہ پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان کو مئی اور جون کے دوران تیل کی درآمد میں تسلسل برقرار رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔
عام شہری اور تاجر برادری کو کیا کرنا چاہیے
اس قسم کے بین الاقوامی معاہدوں کے عارضی اثرات مارکیٹ میں فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ تاجروں اور عام صارفین کو چاہیے کہ وہ مقامی مارکیٹ میں تیل اور درآمدی اشیاء کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ پر نظر رکھیں۔ چونکہ یہ صرف ایک عبوری معاہدہ ہے، اس لیے طویل مدتی سٹریٹجی کے بغیر کاروباری فیصلے کرنے سے گریز کریں۔
آئندہ چند دنوں میں کیا دیکھنا ہوگا
اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران اس بات کا انتظار رہے گا کہ آیا فریقین باضابطہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کرتے ہیں یا نہیں۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کا دوبارہ معمول پر آنا اس بات کا پہلا عملی ثبوت ہوگا کہ یہ معاہدہ زمین پر بھی مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
