امریکی اراکین کانگریس نے بھارت میں مجوزہ قانونی ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ریاستی اداروں کو مسیحی عبادت گاہوں پر قبضہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ یہ قانونی تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب پڑوسی ملک میں اقلیتی برادریوں کے تحفظ پر بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے محافظوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کے تحت مسلمانوں کے بعد اب مسیحی اقلیت بھی نشانے پر آ چکی ہے۔
امریکی کانگریس کی بڑھتی ہوئی تشویش
واشنگٹن میں قانون سازوں نے نئی دہلی کی مذہبی آزادی کی پالیسیوں کے حوالے سے باقاعدہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ زیر غور قانونی ترامیم مقامی انتظامیہ کو املاک کے انتظام اور مذہبی ٹرسٹ کے حوالے سے زیادہ اختیارات دیتی ہیں۔ خطے کے اندر موجود سول سوسائٹی تنظیمیں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو اقلیتی گروپوں کی تاریخی جائیدادوں اور عبادت گاہوں کو ہتھیاانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں تجزیہ کار جنوبی ایشیا میں اقلیتوں کے حقوق کی حساسیت کے پیش نظر ان تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تشویش کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- انتظامی بورڈز کو گرجا گھروں کی جائیدادوں پر قبضے کی اجازت دینے والے قانونی سقم۔
- انتظامی تنازعات کا شکار اقلیتی اداروں کے لیے عدالتی چارہ جوئی کے محدود مواقع۔
- کئی ریاستوں میں اتوار کے اجتماعات پر پابندی اور مقامی سطح پر احتجاج میں اضافہ۔
سفارتی اشارے اور علاقائی اثرات
امریکی اراکین کی جانب سے اس معاملے پر آواز اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پڑوسی ملک کی اندرونی پالیسیاں کس طرح فوری طور پر بین الاقوامی سفارتی ردعمل کا باعث بنتی ہیں۔ اگرچہ نئی دہلی عام طور پر ایسے اقدامات کو انتظامی نظم و ضبط قرار دیتا ہے، تاہم عالمی ادارے اسے منظم امتیازی سلوک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق یہ قانون سازی ایسی برادریوں کو مزید الگ تھلگ کر سکتی ہے جو پہلے ہی اکثریتی دباؤ کا شکار ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
خارجہ امور کے ماہرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا امریکی محکمہ خارجہ ان خدشات کو باضابطہ سفارتی بیانات یا سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹس میں شامل کرتا ہے یا نہیں۔ خطے میں موجود مذہبی تنظیمیں بھی اس بات کی تیاری کر رہی ہیں کہ اگر مجوزہ ترامیم بغیر کسی ترمیم کے منظور ہوئیں تو عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔ نئی دہلی کی پارلیمانی بحث اور واشنگٹن کی قراردادوں پر نظر رکھنا اب اس معاملے کا اگلا اہم قدم ہوگا۔
