امریکی فوجیوں کے اہل خانہ اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت فعال فوجی اہلکاروں کے والدین اور شریک حیات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران وفاقی اداروں نے درجنوں ایسے افراد کو حراست میں لے لیا ہے جو امریکی فوج میں خدمات انجام دینے والے جوانوں کے قریبی عزیز ہیں۔ اس عمل سے ان دیرینہ انتظامی تحفظات کا خاتمہ ہو گیا ہے جو اس سے قبل فوجی خاندانوں کو امیگریشن کی سختیوں سے بچاتے تھے۔
فوجی خاندانوں اور تارکین وطن کے حقوق کے حامی اداروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی سے بیرون ملک فرائض انجام دینے والے فوجیوں کی کارکردگی اور ذہنی سکون پر براہ راست منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فوجی جوان ملکی دفاع میں مصروف ہیں، ان کے گھر والوں کو ملک بدری کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی میں فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کے لیے خصوصی استثنیٰ کی پالیسی موجود تھی تاکہ سپاہی اپنے فرائض پر مکمل توجہ دے سکیں۔
فوجی تیاری اور مورال پر اثرات
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ فوجیوں کے قریبی رشتہ داروں کے خلاف اس قسم کے کریک ڈاؤن سے ادارے کی آپریشنل تیاری متاثر ہوتی ہے۔ جب کسی سپاہی کو یہ ڈر لاحق ہو کہ اس کا جیون ساتھی یا والدین کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتے ہیں، تو وہ محاذ جنگ پر یکسو نہیں رہ سکتا۔ محکمہ دفاع کے روایتی اصولوں کے مطابق اہل خانہ کا تحفظ فوج میں بھرتی اور حوصلے کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد میں سے بیشتر نے قانونی طریقوں سے امریکہ میں داخلہ لیا تھا یا وہ عسکری پروگراموں کے تحت اپنی قانونی حیثیت کو بہتر بنانے کے عمل میں تھے۔ موجودہ وفاقی پالیسی نے ان تمام راستوں کو انتہائی محدود یا بند کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں کو نشانہ بنانا جنہوں نے اپنی زندگیوں کو امریکی فوج کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، ریاست اور فوج کے مابین موجود معاہدے کے منافی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری اقدامات
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس صورتحال سے دوچار ہے اور ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن کی زد میں ہے، تو فوری قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
- امیگریشن یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کسی بھی نوٹس کو نظر انداز ہرگز نہ کریں۔
- فوجی خدمات کے ثبوت، شادی کے سرٹیفکیٹس، پیدایشی اسناد اور پچھلے قانونی دستاویزات کو فوری طور پر یکجا کریں۔
- کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مستند امیگریشن وکیل یا فوجی قانونی امدادی کونسل سے فوری رابطہ کریں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
واشنگٹن میں قانون سازوں اور سابق فوجیوں کی تنظیموں کی جانب سے انتظامیہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ اس پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ آنے والے دنوں میں کانگریس کی کمیٹیوں کے اجلاس متوقع ہیں جہاں فوجی حکام سے ان گرفتاریوں کے اثرات کے بارے میں بازپرس کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے عدالتوں میں ان پالیسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔
