ایک اہم دفاعی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات کے دوران امریکہ کے اہم میزائل دفاعی نظام تھاڈ (THAAD) کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے باخبر ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، ان جدید ترین انٹرسیپٹرز کی شدید کمی نے واشنگٹن کی دفاعی تیاریوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ تھاڈ میزائل دفاعی نظام، جو کہ ٹرمینل ہائی الٹیٹی estadounidense کا حصہ ہے، امریکی فوج کے انتہائی جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل اثاثوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ذخیرے کا بڑا حصہ خالی ہو جانے کے بعد دفاعی ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ موجودہ قلت کے ساتھ ہنگامی حالات کا کیسے سامنا کیا جائے گا۔
عالمی دفاعی ذخائر پر بڑھتا ہوا دباؤ
انٹرسیپٹرز کے اس خطرناک حد تک کم ہونے سے مغربی دفاعی پیداواری زنجیروں میں پائے جانے والے نقائص کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، طویل عرصے سے حکام مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ جیسے فعال محاذوں پر استعمال اور رسد کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ہر ایک تھاڈ بیٹری کی تیاری میں آنے والی خطیر لاگت اور پیچیدہ انجینئرنگ کا مطلب یہ ہے کہ ختم ہونے والے ذخائر کو راتوں رات پُر نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس کی مکمل بحالی کے لیے کوئی حتمی تاریخ جاری نہیں کی، تاہم صنعتی حلقوں کا اندازہ ہے کہ پیداوار کو سابقہ سطح پر لانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
علاقائی سلامتی اور پاکستان پر ممکنہ اثرات
جنوبی ایشیا کے مبصرین کے لیے امریکی دفاعی تیاریوں میں یہ تبدیلیاں خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب بڑی طاقتوں کے دفاعی ذخائر کم ہوتے ہیں تو اس کے اثرات ان کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی بحرانوں میں مداخلت کی صلاحیت پر بھی پڑتے ہیں۔ پاکستانی دفاعی حلقے ان پیش رفتوں کا گہری نظر سے جائزہ لے رہے ہیں، بالخصوص اس وقت جب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال عالمی سپلائی چینز اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ہائی اینڈ اینٹی میزائل ہارڈویئر کی یہ طویل قلت واشنگٹن کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے دفاعی وعدوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
آئندہ کے لیے اہم نکات جن پر نظر رکھنا ضروری ہے
- پینٹاگون کی جانب سے دفاعی خریداری کے نئے معاہدوں سے متعلق بیانات کا جائزہ لیں۔
- امریکی کانگریس میں پیش کیے جانے والے ہنگامی فنڈنگ کے مطالبات پر توجہ دیں۔
- آنے والے مہینوں میں یورپی اور ایشیائی اتحادیوں کے ردعمل کا مشاہدہ کریں۔
آنے والے مالیاتی سہ ماہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا ملکی پیداواری صلاحیت گھٹتے ہوئے ذخائر اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی مطالبات کے درمیان خلیج کو پر کر سکتی ہے۔ عالمی توازن میں تبدیلی کے اس دور میں دفاعی اعداد و شمار پر نظر رکھنا مستقبل کی سفارتی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
