مشرق وسطیٰ میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے دوران امریکی بحریہ کے ملاحوں کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اہل خانہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاز پر تعینات عملے کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نو ماہ کی مسلسل تعیناتی کے بعد ملاحوں کو شدید ذہنی دباؤ اور تھکاوٹ کا سامنا ہے، جس کے لیے مناسب ذہنی صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
نیوی ٹائمز اور دیگر فوجی ذرائع کی رپورٹس کے مطابق، طیارہ بردار بحری جہاز پر خودکشی کی متعدد کوششیں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ پینٹاگون عام طور پر عملے کی صحت کے معاملات پر خاموشی اختیار کرتا ہے، لیکن تعیناتی کے طویل دورانیے نے ملاحوں کی نفسیاتی کیفیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی تعیناتی پر سوالات
یو ایس ایس ابراہم لنکن اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہے۔ اہل خانہ کا ماننا ہے کہ صرف جنگی خطرات ہی نہیں، بلکہ مسلسل نو ماہ تک سمندر میں رہنے سے پیدا ہونے والی تنہائی اور تھکاوٹ بھی ان افسوسناک واقعات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ طویل تعیناتی کے دوران ملاحوں کو ساحل پر جانے یا خاندان سے ملنے کے مواقع نہ ملنا ان کی ذہنی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔
جب ملاحوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کمانڈ سسٹم ان کی ذہنی صحت کو ترجیح نہیں دے رہا، تو بحرانی کیفیت میں خود کو نقصان پہنچانے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ذہنی صحت اور فوجی معیارات
- عملے کے ارکان نے مسلسل نو ماہ کی ڈیوٹی کے باعث شدید ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کی شکایت کی ہے۔
- اہل خانہ نے امریکی بحریہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملاحوں کی حفاظت اور ذہنی صحت کے بارے میں شفافیت سے کام لے۔
- انسانی حقوق اور فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی پروفائل مشنز کے دوران نفسیاتی مدد کی فراہمی میں نظامی کوتاہیاں موجود ہیں۔
امریکی بحریہ کی پالیسی کے تحت عملے کی طبی تفصیلات کو خفیہ رکھا جاتا ہے، تاہم سوشل میڈیا اور خبر رساں اداروں کے ذریعے ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد محکمہ دفاع پر شدید دباؤ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ آپریشنل رفتار ملاحوں کی ذہنی صحت کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
اب کیا ہوگا؟
اگر آپ کا کوئی قریبی عزیز امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے، تو آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس کی جانب سے بحری تیاری اور ذہنی صحت کے فنڈز پر ہونے والی بحث پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ پینٹاگون سے یہ سوال کیا جائے گا کہ کیا جہاز کی طویل تعیناتی فوجی قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے۔
یہ صورتحال اگرچہ امریکی فوج کا داخلی معاملہ ہے، لیکن یہ طویل فوجی تعیناتیوں کی انسانی قیمت کو اجاگر کرتی ہے۔ امریکی بحریہ کے پبلک افیئرز آفس کے بیانات پر نظر رکھیں تاکہ جہاز کے مشن کی مدت میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں بروقت معلومات مل سکیں۔
