ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان کی معدنی دولت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ ملک کی معاشی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان انتظامیہ نے اب تک 150 سے زائد کمپنیوں کو 205 کان کنی کے معاہدے جاری کیے ہیں۔

معدنی دولت کا بے دریغ استعمال

رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ان کان کنی کے معاہدوں میں شفافیت کا فقدان ہے، جس سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ افغانستان کے قدرتی وسائل کو ملکی ترقی کے بجائے مخصوص گروہی یا ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ افغانستان تانبے، لیتھیم، سونے اور نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن موجودہ نظام میں ان وسائل کی نکاسی پر عوامی نگرانی کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

مرکزی اور منظم معاشی نظام کے بجائے، طالبان نے معاہدوں کا ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو مقامی کمانڈروں اور بااثر شخصیات کو براہ راست منافع کمانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب افغانستان شدید غربت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کا شکار ہے، قومی وسائل کا اس طرح ضیاع طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

معاہدوں کی تفصیلات

معدنیات کے شعبے میں جاری ان 205 معاہدوں کا دائرہ کار کافی وسیع ہے۔ یہ کانیں ملک کے مختلف دور دراز علاقوں میں واقع ہیں، جہاں مقامی طالبان حکام کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ سودے اکثر بند کمروں میں طے کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کسی قسم کے آزادانہ آڈٹ یا بین الاقوامی نگرانی کی گنجائش نہیں بچتی۔

پاکستان کے لیے، جو افغانستان کے ساتھ طویل سرحد اور گہرے معاشی روابط رکھتا ہے، پڑوسی ملک میں کان کنی کے شعبے کی یہ غیر شفاف صورتحال تشویشناک ہے۔ ایک باضابطہ اور شفاف معاشی فریم ورک کی عدم موجودگی علاقائی تجارت اور ان توانائی کے منصوبوں کو بھی متاثر کرتی ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتے تھے۔

مستقبل میں کیا متوقع ہے؟

آئندہ آنے والے وقت میں، عالمی برادری کی جانب سے طالبان پر کان کنی کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے دباؤ میں اضافے کا امکان ہے۔ آپ کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ آیا بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر کوئی سخت اقدامات اٹھاتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی آبادی پر ان کان کنی کی سرگرمیوں کے اثرات، خاص طور پر مزدوری کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے پیش رفت کو دیکھنا اہم ہوگا، کیونکہ ضوابط کے بغیر بڑی پیمانے پر کان کنی اکثر انسانی اور ماحولیاتی بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔