امریکہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں پاکستان کے سرکاری مالیات پر پارلیمانی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ نظام میں شفافیت کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے عوامی فنڈز کے درست استعمال کی نگرانی ممکن نہیں ہو پا رہی۔
سرکاری مالیات پر پارلیمانی نگرانی کی اہمیت
رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں بجٹ سازی کا موجودہ عمل اتنا تاخیر کا شکار ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکین کو مالیاتی فیصلوں پر بحث کرنے کا مناسب وقت ہی نہیں ملتا۔ جب بجٹ حتمی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جاتا ہے، تو بنیادی فیصلے پہلے ہی کیے جا چکے ہوتے ہیں، جس سے پارلیمانی بحث محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔
امریکی رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ حکومت کو بجٹ کی حتمی منظوری سے کئی ماہ قبل تفصیلی مالیاتی اعداد و شمار پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے چاہئیں۔ اس سے قائمہ کمیٹیوں کو موقع ملے گا کہ وہ مختلف محکموں کے اخراجات کا باریک بینی سے جائزہ لے سکیں اور بجٹ میں نقائص کی نشاندہی کر سکیں۔
یہ عام شہری کے لیے کیوں ضروری ہے؟
یہ محض تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ جب حکومت مالیاتی خسارے کے اعداد و شمار کو چھپاتی ہے یا انہیں بروقت جاری نہیں کرتی، تو سال کے دوران اچانک منی بجٹ لانے یا ٹیکسوں میں اضافے کی نوبت آتی ہے۔
اگر پارلیمنٹ کے پاس ملکی خزانے کی اصل صورتحال کی معلومات وقت پر ہوں، تو قانون ساز ایف بی آر کے غیر حقیقت پسندانہ محصولات کے اہداف پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ موجودہ نظام میں اکثر بجٹ ایسے اندازوں پر مبنی ہوتا ہے جو پورے نہیں ہوتے، جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
آنے والے مالی سالوں کے دوران یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کو بااختیار بناتی ہے یا نہیں۔ اگر حکومت سہ ماہی مالیاتی رپورٹس کو عوام کے سامنے لانے اور ان پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا سلسلہ شروع کرتی ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
دوسری جانب، اگر بجٹ کو آخری لمحے تک ایک خفیہ دستاویز کے طور پر رکھا گیا، تو اس کا مطلب ہوگا کہ پرانا نظام برقرار ہے۔ شہریوں اور سرمایہ کاروں کو پارلیمنٹ کے آنے والے اجلاسوں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا بجٹ کے جائزے کے عمل میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں یا نہیں۔ شفافیت ہی معاشی استحکام کی پہلی سیڑھی ہے، اس کے بغیر قرضوں اور کٹوتیوں کا یہ چکر جاری رہے گا۔
