ایک حالیہ بین الاقوامی جائزے نے parliamentary oversight of Pakistan’s public finances کو معاشی استحکام کے لیے ایک اہم اصلاحاتی قدم قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام میں گہرائی کا فقدان ہے، جس کے باعث قانون سازوں اور عوام کو یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔
مالیاتی نگرانی اور پارلیمانی کردار
برسوں سے بین الاقوامی قرض دہندگان بجٹ کے اعلانات اور عملی اخراجات کے درمیان فرق پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو مالیاتی ڈیٹا اتنی تاخیر سے ملتا ہے کہ وہ بروقت مداخلت نہیں کر پاتے۔ جب تک تفصیلی اخراجات کی رپورٹیں ایوان میں پیش کی جاتی ہیں، تب تک فنڈز خرچ ہو چکے ہوتے ہیں، جس سے نگرانی کا عمل بے اثر ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے رپورٹ میں ڈیجیٹل اور ریئل ٹائم رپورٹنگ کے نظام پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) اور دیگر قائمہ کمیٹیاں اخراجات کی بروقت نگرانی کر سکیں گی، بجائے اس کے کہ وہ سال کے آخر میں ہونے والے آڈٹ پر انحصار کریں۔
شفافیت آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟
جب حکومت مضبوط چیک اینڈ بیلنس کے بغیر مالیات سنبھالتی ہے، تو قرضوں کے غلط انتظام اور منصوبوں میں بدعنوانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک عام پاکستانی کے لیے اس کا مطلب مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔ شفافیت کا مطالبہ صرف حکمرانی کے لیے نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ بجلی، ایندھن اور بنیادی اشیاء کی قیمتیں مالیاتی بدانتظامی کی نذر نہ ہوں۔
آگے کیا ہوگا؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر آئندہ بجٹ میں ان تجاویز کو کس حد تک شامل کرتے ہیں۔ اگر آپ ان پیش رفتوں پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تو قومی اسمبلی کی آفیشل ویب سائٹ na.gov.pk کو باقاعدگی سے چیک کریں، جہاں کمیٹیوں کی رپورٹس اور قانون سازی کا ایجنڈا اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔
