امریکہ کو طویل فاصلے کے میزائل کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ جاری طویل فوجی تصادم نے دفاعی پیداواری صلاحیتوں کو انتہائی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پانچ ماہ سے زائد عرصے کی مسلسل عسکری کارروائیوں کے دوران امریکی افواج نے اپنے انتہائی جدید اور درست ہدف تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا حصہ خرچ کر لیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیچیدہ عسکری سازوسامان کو دوبارہ پورا کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں، جس سے مستقبل کی دفاعی تیاری میں خلل پڑ سکتا ہے۔
واشنگٹن کے عسکری منصوبہ ساز اب مشرق وسطیٰ میں جنگی ضروریات اور یورپ و انڈو پیسیفک میں عالمی سکیورٹی وعدوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن اور ریتھیون جیسے دفاعی ٹھیکیدار دن رات کام کر رہے ہیں، اس کے باوجود سپلائی چین کی رکاوٹیں اور خام مال کی قلت تیز رفتار پروڈکشن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
عالمی سلامتی اور علاقائی استحکام پر اثرات
اعلیٰ معیار کے عسکری سازوسامان کے کم ہونے سے براہ راست پینٹاگون کی اس صلاحیت پر اثر پڑتا ہے جس سے وہ اہم ترین خطوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جب اسٹریٹجک ذخائر لازمی سلامتی کی حد سے نیچے چلے جاتے ہیں، تو کمانڈروں کو جدید میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال محدود کرنا پڑتا ہے۔
- مائیکرو چپس اور سالڈ راکٹ فیول کی قلت کی وجہ سے پیداواری لائنوں کو مسلسل تاخیر کا سامنا ہے۔
- امریکی اسلحے پر انحصار کرنے والے اتحادی ممالک کو دفاعی سازوسامان کی فراہمی میں طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
- واشنگٹن میں بجٹ کے مباحثے تیز ہو چکے ہیں کیونکہ قانون ساز طویل جنگی میزائلوں کے تبادلے کے مالی اور انتظامی مسائل پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے اس کے معنی
پاکستان کے مبصرین کے لیے امریکی دفاعی ذخائر میں تبدیلیاں وسیع تر جغرافیائی سیاسی اثرات رکھتی ہیں۔ جب مغربی دفاعی اثاثے مشرق وسطیٰ کی طویل جنگوں میں الجھ جاتے ہیں، تو واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔
توانائی کی منڈیاں ایک اور فوری تشویش کا باعث ہیں۔ خلیج فارس میں طویل عدم استحکام براہ راست خام تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس کے اخراجات اور پاکستان جیسی توانائی کی درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے ایندھن کی لاگت کو متاثر کرتا ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
عام شہری عالمی دفاعی لاجسٹکس کو کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن آپ اس بات پر نظر رکھ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی سپلائی کے دباؤ گھریلو ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ہر پندرہ دن بعد جاری ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزوں پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
آنے والے ہفتوں میں کن چیزوں پر نظر رکھیں
واشنگٹن میں کانگریس کے آئندہ بجٹ اجلاس اور بڑے دفاعی ٹھیکیداروں کی پیداواری اہداف کے حوالے سے اعلانات پر نظر رکھیں۔ خلیج میں کوئی بھی سفارتی پیش رفت یا کشیدگی میں اضافہ ان اہم عسکری ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ فوری طور پر کر دے گا۔
