امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے اپنی اصل توجہ تہران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے بجائے عالمی سطح پر پیٹرول اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نیچے لانے پر مرکوز کر دی ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اب بھی ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے، لیکن اس وقت پالیسی سازوں کی اولین ترجیح عالمی مارکیٹ میں توانائی کی فراہمی کو بحال کرنا اور قیمتوں میں کمی لانا ہے۔ پاکستان جیسی معیشت کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتی ہے، اس پالیسی تبدیلی کا براہ راست تعلق آپ کے روزمرہ کے اخراجات، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور یوٹیلیٹی بلوں سے ہے۔
عالمی توانائی کی مارکیٹیں خلیج فارس میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے خلاف انتہائی حساس ہوتی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی تیل کی ترسیل کے حوالے سے۔ جب بھی وہاں کشیدگی بڑھتی ہے، خام تیل کے نرخ فوری طور پر اوپر چلے جاتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے قیمتوں کو کم کرنے کی یہ کوشش اس بات کا اعتراف ہے کہ توانائی کی مہنگائی نے اندرونی طور پر شدید معاشی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ تاہم، پاکستان جیسے ملک میں بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عام آدمی تک فوری طور پر اور پوری طرح نہیں پہنچتا کیونکہ یہاں ٹیکسوں کا نظام اور روپے کی قدر کے مسائل الگ موجود ہیں۔
اس پالیسی تبدیلی کا پاکستان میں پیٹرول کی قیمت پر کیا اثر ہوگا
جب امریکہ عالمی سطح پر گیسولین اور تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کرتا ہے تو اس میں اوپیک ممالک پر دباؤ، اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال اور سمندری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہوتا ہے۔ اگر یہ اقدامات کامیاب ہوتے ہیں تو نظریہ کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کمی آنا چاہیے۔ تاہم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد کیا جاتا ہے، جس میں درآمدی لاگت کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کی مد میں بھاری ٹیکس وصول کرتی ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل سستا بھی ہو جائے، تو اکثر حکومت قیمتیں کم کرنے کے بجائے لیوی یا ٹیکس بڑھا کر ریونیو پورا کرتی ہے، جس کی وجہ سے عام صارف کو ریلیف بمشکل ہی ملتا ہے۔
آپ کے گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر
ایندھن کی قیمتوں میں ایک روپے کا فرق بھی پاکستانی معیشت میں لہر کی طرح پھیلتا ہے اور آپ کے ماہانہ بجٹ کو کئی طریقوں سے متاثر کرتا ہے:
- بسوں، رکشوں اور آن لائن ٹیکسی سروسز کے کرائے تیل مہنگا ہوتے ہی بڑھ جاتے ہیں، لیکن تیل سستا ہونے پر اس حساب سے کم نہیں ہوتے۔
- دیہی علاقوں سے سبزیوں، گنا، گندم اور روزمرہ کی اشیاء کو شہروں تک لانے والے ٹرکوں کا کرایہ بڑھنے سے گروسری کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
- فیکٹریوں اور کارخانوں میں بجلی کی بندش کے دوران استعمال ہونے والے جنریٹرز کے لیے ڈیزل کی زیادہ قیمتیں تیار شدہ اشیاء کو مہنگا کر دیتی ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
مشرق وسطیٰ کے حالات اور عالمی توانائی کی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ آپ اپنے مالی معاملات میں احتیاط برتیں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے اوگرا کی طرف سے جاری ہونے والے پندرہ روزہ نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھیں۔ اگر آپ روزانہ طویل سفر کرتے ہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ یا بائیک کی بہتر دیکھ بھال کے ذریعے ایندھن کی بچت کرنے کی کوشش کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے نرخوں اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر پر کڑی نظر رکھیں۔ اصل امتحان یہی ہوگا کہ آیا امریکہ کی تیل کی قیمتیں گرانے کی کوششیں پاکستان میں عام صارف کے لیے پندرہ روزہ جائزہ رپورٹ میں سستے پیٹرول کی صورت میں سامنے آتی ہیں یا نہیں۔
