امریکی ویزا بانڈ پروگرام اب ایک مستقل پالیسی بن چکا ہے، جس کے تحت مخصوص ممالک کے شہریوں کو بی-1 (کاروباری) یا بی-2 (سیاحتی) ویزا حاصل کرنے کے لیے 20,000 ڈالر تک کا سیکیورٹی بانڈ جمع کروانا پڑ سکتا ہے۔

یہ پروگرام ان ممالک کے لیے ہے جہاں سے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام کرنے والوں کی شرح زیادہ ہے۔ پاکستانی درخواست دہندگان کے لیے یہ ایک بڑی مالی ذمہ داری ہے، جس کا مطلب ہے کہ سفر سے قبل آپ کو بھاری رقم کا انتظام کرنا ہوگا۔

امریکی ویزا بانڈ پروگرام کی بنیادی معلومات

یہ بانڈ ایک طرح کی ضمانت ہے جو امریکی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لیتی ہے کہ آپ ویزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے واپس پاکستان آ جائیں گے۔

  • لاگت: بانڈ کی رقم 20,000 ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی فیس نہیں بلکہ ایک ڈیپازٹ ہے۔
  • واپسی: جب آپ واپس پاکستان پہنچ جائیں گے اور اس کا ثبوت دیں گے، تو یہ رقم آپ کو واپس مل جائے گی۔
  • ضبطی: اگر آپ ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا مقررہ وقت سے زیادہ قیام کرتے ہیں، تو یہ رقم ضبط کر لی جائے گی۔

کون سے افراد متاثر ہوں گے؟

یہ پروگرام ان 50 ممالک کے لیے ہے جن کی امیگریشن ڈیٹا میں ویزا کی خلاف ورزی کی شرح زیادہ ہے۔ اگر آپ کا انٹرویو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے یا کراچی میں قونصلیٹ میں ہو رہا ہے، تو قونصلر آفیسر فیصلہ کرے گا کہ آیا آپ پر اس بانڈ کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔ ہر درخواست دہندہ کو بانڈ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ آفیسر کے صوابدیدی اختیار پر منحصر ہے۔

منتخب ہونے کی صورت میں کیا کریں؟

اگر آپ کو انٹرویو کے دوران بتایا جاتا ہے کہ آپ کو بانڈ ادا کرنا ہوگا، تو درج ذیل اقدامات کریں:

  1. نوٹیفکیشن: قونصلر آفیسر آپ کو انٹرویو کے اختتام پر مطلع کرے گا۔
  2. فنڈز کا انتظام: موجودہ شرح مبادلہ کے حساب سے 20,000 ڈالر 55 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد بنتے ہیں۔ اس رقم کے ذرائع اور دستیابی کا ثبوت اپنے پاس تیار رکھیں۔
  3. ادائیگی: یہ رقم کسی منظور شدہ شورٹی کمپنی یا سرکاری پورٹل کے ذریعے جمع کروائی جاتی ہے۔
  4. واپسی کا ثبوت: امریکہ سے واپسی پر اپنے بورڈنگ پاس اور دیگر سفری دستاویزات سنبھال کر رکھیں تاکہ آپ اپنی رقم واپس کلیم کر سکیں۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات اور امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلی کے ساتھ اس فہرست میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔ لہذا، سفارت خانے کی آفیشل ویب سائٹ کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہیں۔ اگر آپ امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو کسی مستند امیگریشن ماہر سے مشورہ کریں تاکہ آپ کو کسی مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔