امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سات مختلف ریاستوں میں پانی کے اہم ترین نظاموں کو مربوط سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ایران کے ملوث ہونے کے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یہ سکیورٹی خلاف ورزی اس وقت سامنے آئی جب منیسوٹا کی ریاست میں تیس سے زائد واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور یوٹیلیٹیز پر ایک ساتھ ڈیجیٹل یلغار کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

منیسوٹا اور دیگر ریاستوں میں ہنگامی صورتحال

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کارروائی اتنی مربوط تھی کہ اس نے بیک وقت متعدد شہروں کے واٹر سسٹمز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریاست منیسوٹا میں پانی کی سپلائی اور ٹریٹمنٹ کنٹرول یونٹس عارضی طور پر ہیکرز کی زد میں آئے، جس کے بعد مقامی انتظامیہ کو فوری طور پر دستی سسٹمز پر منتقل ہونا پڑا۔ ایف بی آئی اور دیگر انٹیلی جنس ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی براہ راست ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے گروپ کا شاخسانہ ہے یا نہیں۔

ایران کے مبینہ روابط اور ڈیجیٹل سکیورٹی خدشات

امریکی حکام نے تاحال اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کی ہے، تاہم ابتدائی ڈیجیٹل شواہد تہران سے جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی امریکی واٹر سسٹمز کو غیر ملکی ہیکرز کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جن میں ایرانی اور روسی گروپس سرفہرست رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی دوڑیں لگ گئی ہیں اور تمام ریاستوں کی واٹر یوٹیلیٹیز کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

اس خبر سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

اگرچہ یہ واقعہ امریکہ میں پیش آیا ہے، لیکن یہ ترقی پذیر ممالک جیسے کہ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان کا واٹر اور انرجی سیکٹر، بشمول واسا (WASA) اور پاور ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیاں، ڈیجیٹل سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی کمزور مانا جاتا ہے۔ ہمارے انفراسٹرکچر میں جدید فائر والز اور سائبر سکیورٹی کے مضبوط پروٹوکولز کی شدید کمی ہے۔ اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے واٹر سسٹمز اتنی آسانی سے ہیک ہو سکتے ہیں، تو ہمارے اداروں کو اپنی ڈیجیٹل صف بندی فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایف بی آئی اس سائبر حملے کی تکنیکی رپورٹ جاری کرے گی جس میں ایران کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری طرف، دنیا بھر کے ممالک اپنے اہم بنیادی ڈھانچے بالخصوص پانی اور بجلی کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آڈٹ کا آغاز کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کو اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے اہم اثاثوں کو سائبر خطرات سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔