سکیورٹی فورسز کی جانب سے تین بلوچ خواتین کی غیر قانونی حراست پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو گزشتہ ہفتے حراست میں لیا گیا تھا، اور تب سے ان کے اہل خانہ ان کی بازیابی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

6 اگست 2024 تک، ان خواتین کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے۔ VBMP نے اس عمل کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکام سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

حراست کا پس منظر اور قانونی تقاضے

پاکستان کے قانون کے مطابق، کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔ تاہم، بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے پر اکثر یہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ مقامی تھانوں اور انتظامی دفاتر کے چکر لگا چکے ہیں، لیکن انہیں کہیں سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔

عوام کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر کسی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آتا ہے، تو قانونی ماہرین درج ذیل اقدامات کا مشورہ دیتے ہیں:
- واقعے کا وقت، تاریخ اور مقام کو تحریری طور پر محفوظ کریں۔
- اگر کوئی گواہ یا ویڈیو ثبوت موجود ہے تو اسے جمع کریں۔
- مقامی تھانے میں ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کی کوشش کریں۔
- اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے، تو متعلقہ سیشن کورٹ میں دفعہ 22-A کے تحت درخواست دائر کریں۔
- ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) جیسی تنظیموں سے رابطہ کریں تاکہ کیس کو عوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

اب تمام تر نظریں صوبائی حکومت اور وزارت داخلہ پر ہیں کہ آیا وہ ان خواتین کی حراست کے بارے میں کوئی بیان جاری کرتی ہے یا نہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے خاموشی برقرار رہی، تو VBMP نے اپنے احتجاج کو مزید وسیع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے ذریعے ہی ان معاملات میں شفافیت لائی جا سکتی ہے۔ قارئین کو چاہیے کہ وہ بلوچستان ہائی کورٹ کی کارروائیوں پر نظر رکھیں، کیونکہ بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی ہی واحد راستہ بچتا ہے۔