پاکستان میں AI misinformation یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک تشویشناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں ایڈولف ہٹلر کی ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں اسے فینٹا کا کین پیتے ہوئے اور "مجھے جوس سے نفرت ہے" (I hate juice) کا جملہ دہراتے ہوئے دکھایا گیا۔ اگرچہ یہ ویڈیو ایک مزاحیہ اور ڈیجیٹل آرٹ کے طور پر بنائی گئی تھی، لیکن پاکستان میں لاکھوں صارفین نے اسے ایک حقیقی اشتہار سمجھ لیا، جو ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کے تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی مثال ہے۔
غلط معلومات کا بڑھتا ہوا خطرہ
یہ ویڈیو 2024 کے آخر میں وائرل ہوئی اور اس میں جدید اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ہٹلر کی آواز اور ہونٹوں کی حرکت کو بالکل اصلی دکھایا گیا تھا۔ پاکستان میں جہاں واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر لوگ اکثر تصدیق کیے بغیر مواد شیئر کر دیتے ہیں، ایسی ویڈیوز سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ جب عوام اصلی اور نقلی کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، تو معاشرے میں انتشار پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ویڈیوز اتنی تیزی سے وائرل کیوں ہوتی ہیں؟
- ڈیجیٹل خواندگی کا فقدان: پاکستان میں بڑی تعداد میں صارفین کو یہ نہیں معلوم کہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز میں کیا خامیاں ہوتی ہیں، جیسے غیر فطری پلک جھپکنا یا پس منظر کا دھندلا پن۔
- الگورتھم کی کرشمہ سازی: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم صرف وہی مواد زیادہ دکھاتے ہیں جس پر زیادہ کمنٹس یا شیئرز ہوں۔ اس لیے جعلی مواد حقیقت سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔
- سیاق و سباق کا نہ ہونا: اکثر ویڈیوز بغیر کسی مستند لنک یا حقیقت کے شیئر کی جاتی ہیں، جس سے ان کا اصل مقصد چھپ جاتا ہے۔
آپ خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟
اگر آپ کو کوئی ایسی ویڈیو ملے جو عجیب یا اشتعال انگیز لگے، تو اسے شیئر کرنے سے پہلے خود تصدیق کریں۔ سب سے پہلے متعلقہ برانڈ یا شخصیت کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز دیکھیں۔ اگر کوئی بڑا برانڈ ایسا اشتہار جاری کرے گا، تو وہ ان کی ویب سائٹ پر ضرور موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ، ویڈیو میں چھوٹی چھوٹی تکنیکی خرابیوں پر غور کریں جو اکثر اے آئی ماڈلز کے استعمال سے رہ جاتی ہیں۔
آئندہ کے لیے کیا توقع رکھیں؟
سال 2025 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور دیگر اداروں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو ریگولیٹ کریں۔ آپ کو چاہیے کہ ڈیجیٹل میڈیا کی آگاہی مہمات پر نظر رکھیں تاکہ آپ ایسی جعلی ویڈیوز کی شناخت کر سکیں۔ تب تک، ہر وائرل ہونے والی ویڈیو کو شک کی نگاہ سے دیکھیں، خاص طور پر ایسی ویڈیوز جو آپ کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے بنائی گئی ہوں۔
