ایسا لگتا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کے خاتمے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپدا) نے تصدیق کی ہے کہ کینجھر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم، جسے کے فور پروجیکٹ بھی کہا جاتا ہے، کی تکمیل 30 جون 2027 تک کر دی جائے گی۔ اس اعلان کے باوجود، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ کراچی کے نلکوں میں پانی شاید ہی 2028 کے اختتام سے پہلے آ سکے۔ اس تاخیر کی بنیادی وجہ سندھ حکومت کی طرف سے شہر کے اندر پانی کی تقسیم کے نظام کو وقت پر تیار نہ کرنا ہے۔

کے فور پروجیکٹ کی موجودہ صورتحال اور ڈیڈ لائن

ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق، واپدا نے کے فور پروجیکٹ کی تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ مقررہ تاریخ یعنی جون 2027 تک مرکزی لائنز اور بنیادی ڈھانچہ مکمل کیا جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد میگا شہر کو کینجھر جھیل سے یومیہ کروڑوں گیلن پانی فراہم کرنا ہے۔ کراچی کو اس وقت پانی کے سنگین بحران کا سامنا ہے، اور یہ منصوبہ اس بحران کو کم کرنے کی کلید سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مرکزی پائپ لائنز بچھانے کے بعد بھی، جب تک شہر کے اندرونی علاقوں میں پانی کی تقسیم کا نیٹ ورک نہیں بنتا، یہ پانی شہریوں تک نہیں پہنچ سکتا۔

سندھ حکومت کی تاخیر اور زمینی مسائل

جبکہ واپدا اپنی مقررہ ڈیڈ لائن جون 2027 تک اپنا کام سمیٹنے کی پوزیشن میں ہے، صوبائی حکومت اور مقامی بلدیاتی ادارے اندرونی ڈسٹ্রিবিوشن نیٹ ورک کے کام میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ محکمہ بلدیات سندھ نے ابھی تک شہر کی مختلف یونین کونسلز اور علاقوں میں پانی کی نئی لائنیں بچھانے یا پرانی لائنوں کی مرمت کے لیے خاطر خواہ فنڈز اور ٹائم لائن کا اجراء نہیں کیا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ مرکزی منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی صوبائی محکموں کی سستی کی وجہ سے پانی کی اصل فراہمی 2028 کے آخری مہینوں سے پہلے شروع نہیں ہو پائے گی۔

کراچی کے شہریوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

عوام کے لیے اس خبر کا مطلب یہ ہے کہ ٹینکر مافیا اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ اگلے چند سالوں تک حل نہیں ہوگا۔ کراچی کے باسیوں کو ابھی مزید ڈیڑھ سے دو سال تک پانی کی بوند بوند کے لیے ترسنا پڑے گا یا مہنگے داموں ٹینکر خریدنے ہوں گے۔ کے فور پروجیکٹ کی تاخیر یا اس کے فوائد بروقت نہ ملنے سے عام آدمی کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے، کیونکہ گرمیوں کے موسم میں پانی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

اب شہریوں کو کیا کرنا چاہیے اور آگے کیا ہوگا؟

آپ کو چاہیے کہ اپنے گھروں میں پانی کے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کو بہتر بنائیں اور فی الحال پانی کے ضیاع سے گریز کریں۔ سول سحر اور شہری تنظیموں کو چاہیے کہ وہ سندھ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اندرونی ڈسٹریبیوشن کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کرے۔ آنے والے مہینوں میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا صوبائی حکومت واپدا کی ڈیڈ لائن جون 2027 کے ساتھ اپنے کام کو ہم آہنگ کر پاتی ہے یا نہیں۔