عالمی صحافتی تنظیموں نے پاکستان میں foreign press curbs in pakistan یعنی غیر ملکی میڈیا پر عائد نئی پابندیوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صحافیوں پر کڑی حدبندیاں شفافیت اور معلومات تک رسائی کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

یہ مطالبہ 7 اگست 2026 کو جاری ہونے والی ان تازہ سرکاری ہدایت ناموں کے بعد سامنے آیا ہے جن کے تحت پاکستان میں مقیم غیر ملکی نامہ نگاروں کی نقل و حرکت اور کوریج پر سخت شرائط عائد کی گئی ہیں، خاص طور پر عوامی احتجاج اور حساس علاقوں کی رپورٹنگ کو محدود کر دیا گیا ہے۔

  • اہم مسئلہ: غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت اور رپورٹنگ کے لیے این او سی اور سخت اجازت ناموں کی شرط۔
  • بنیادی وجہ: آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں سستے آٹے اور بجلی کے بلوں پر جاری عوامی احتجاج کی بین الاقوامی کوریج۔
  • تنظیموں کا مطالبہ: نئے ایکریڈیشن قواعد اور سفری پابندیوں کا فوری خاتمہ۔
  • متعلقہ ادارے: وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ، اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی)۔

نئی ہدایات سے کوریج اور سفر محدود

وفاقی حکام کی جانب سے جاری کردہ اپ ڈیٹ شدہ قواعد کے مطابق، اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں سے باہر سفر کرنے کے لیے غیر ملکی رپورٹرز کو اب باقاعدہ سیکورٹی کلیئرنس اور این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

ان ہدایات میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے لیے کسی بھی عوامی اجلاس، مظاہرے یا سیکورٹی آپریشن کی عکاسی سے قبل پیشگی اطلاع دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے ریئل ٹائم کوریج میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

صحافیوں کی تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی کمیٹی (سی پی جے) اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے کہا ہے کہ ان انتظامی رکاوٹوں کے باعث دور دراز اور حساس علاقوں کی حقیقت حال دنیا کے سامنے لانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل

بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں آزاد صحافت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی میڈیا ملک کے اندرونی حالات کی غیر جانبدارانہ تصویر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

عالمی تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا: "غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت روکنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے شکوک و شبہات مزید بڑھتے ہیں۔" انہوں نے حکومتِ پاکستان سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنے کی اپیل کی۔

حقوق کے لیے کام کرنے والے نمائندوں کا کہنا ہے کہ طویل بیوروکریٹک عمل سے گزر کر اجازت نامے حاصل کرنے کی شرط سے فوری نوعیت کی خبر رسانی شدید متاثر ہوتی ہے۔

کشمیر کے احتجاج پر کوریج کا مسئلہ

میڈیا پر ان سخت اقدامات کا سلسلہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے بھاری بلوں اور بنیادی مسائل پر جاری مسلسل عوامی احتجاج کے دوران تیز ہوا ہے۔

جب خطے میں احتجاجی مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہوا تو متعدد غیر ملکی نامہ نگاروں نے وہاں جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لینے کی کوشش کی، تاہم انہیں چیک پوسٹوں پر روک دیا گیا یا این او سی کے اجراء میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی صحافتی تنظیموں نے بھی عالمی اداروں کے تحفظات کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی میڈیا پر اس قسم کی پابندیاں بالآخر مقامی صحافیوں کے لیے بھی سنسرشپ اور دشواریوں کا باعث بنتی ہیں۔

عام شہریوں اور میڈیا پر اثرات

اگرچہ یہ احکامات بظاہر غیر ملکی اداروں کے لیے ہیں، لیکن ماہرینِ میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات ملکی ذرائع ابلاغ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ جب عالمی میڈیا کو محدود کیا جاتا ہے تو مقامی چینلز اور اخبارات پر بھی پیمرا اور دیگر اداروں کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

عام قارئین کے لیے متوازن اور غیر جانبدارانہ معلومات تک رسائی محدود ہو جاتی ہے، جو کہ جمہوری اداروں کے محاسبے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس کے علاوہ عالمی سطح پر پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ملک کا بین الاقوامی امیج بھی متاثر ہوتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

صحافتی برادری اور صورتحال پر نظر رکھنے والے شہریوں کو درج ذیل پیش رفت کا جائزہ لینا چاہیے:

  • پی آئی ڈی کی ہدایات: غیر ملکی دفاتر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی مراسلوں پر نظر رکھیں۔
  • شواہد کا اندراج: سفری اجازت میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنے والے صحافی متعلقہ پریس کلبوں کو مطلع کریں۔
  • پارلیمانی جائزہ: قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاسوں میں اس پالیسی پر بحث متوقع ہے۔
  • عدالتی چیلنج: قانونی ماہرین کے مطابق ان انتظامی احکامات کو آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات غیر ملکی عملے کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں، تاہم عالمی برادری اور مقامی پریس کے مسلسل دباؤ کے بعد پالیسی میں نظرثانی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔