ادارہ شماریات پاکستان (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو عام آدمی کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔

پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی تازہ صورتحال

ادارہ شماریات کا جاری کردہ 'سینسٹیو پرائس انڈیکیٹر' (SPI) ملک بھر کے بازاروں میں 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر رکھتا ہے۔ جب اس انڈیکیٹر میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی ہفتہ وار خریداری پر خرچ ہونے والی رقم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

کون سی اشیاء مہنگی اور کون سی سستی ہوئیں؟

رپورٹ کے مطابق بنیادی ضرورت کی کئی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھا ہے۔ تاہم، کچھ موسمی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں معمولی کمی یا استحکام بھی دیکھنے میں آیا ہے، جو صارفین کے لیے کچھ حد تک ریلیف کا باعث ہے۔ اشیاء کی قیمتوں کا تفصیلی موازنہ کرنے کے لیے آپ ادارہ شماریات کی ویب سائٹ pbs.gov.pk پر جا کر مکمل رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

  1. اپنے ہفتہ وار اخراجات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کون سی چیزیں آپ کے بجٹ کو زیادہ متاثر کر رہی ہیں۔
  2. کوشش کریں کہ مقامی اور موسمی سبزیوں کا استعمال بڑھائیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
  3. ہر جمعہ کو جاری ہونے والی ادارہ شماریات کی نئی رپورٹ پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو آئندہ کی صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔

مہنگائی کی یہ لہر معاشی صورتحال کا عکاس ہے، اور حکومت کی جانب سے ان اشاریوں کی روشنی میں معاشی پالیسیوں میں تبدیلیاں متوقع ہوتی ہیں۔ اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ان اعداد و شمار کو باقاعدگی سے دیکھنا آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔