اگرچہ برصغیر میں زیادہ تر لوگ 15 اگست کو صرف بھارت کے یوم آزادی کے طور پر جانتے ہیں، لیکن بین الاقوامی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی اسی تاریخ کو اپنی آزادی یا قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ 15 اگست کی تاریخ عالمی سطح پر کتنی اہم تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔

بھارت کے علاوہ دنیا کے کئی خطوں میں اس مخصوص تاریخ کو نوآبادیاتی تسلط سے آزادی یا اہم سیاسی سنگ میل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں پیش آنے والے ان تاریخی واقعات کو سمجھنے سے بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

15 اگست کو آزادی منانے والے دیگر ممالک

اس تاریخ سے جڑا سب سے نمایاں ملک جنوبی کوریا ہے، جو ہر سال 15 اگست کو 'گوانگ بوک جیول' یعنی 'روشنی کی واپسی کا دن' مناتا ہے۔ یہ تاریخ سنہ 1945 میں جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی سے کوریا کی آزادی کی علامت ہے، جس نے دہائیوں طویل بیرونی تسلط کا خاتمہ کیا۔

مشرقی ایشیا کے علاوہ خلیجی ریاست بحرین نے بھی 15 اگست 1971 کو برطانیہ کے ساتھ اپنے معاہدوں کا خاتمہ کر کے باضابطہ آزادی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ کانگو ریپبلک نے 15 اگست 1960 کو فرانس سے آزادی حاصل کی جبکہ یورپ کی چھوٹی سی ریاست لکٹینسٹین بھی اسی دن اپنا قومی دن مناتی ہے۔

کوریا کی موجودہ صورتحال اور حالیہ پیش رفت

جہاں ایک طرف جنوبی کوریا اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے، وہیں کوریا کا خطہ اب بھی بیسویں صدی کے وسطی تنازعات کا شکار ہے۔ حالیہ سفارتی پیش رفت کے دوران جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1950 میں شروع ہونے والی خوفناک جنگ جولائی 1953 میں ایک عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت رکی تھی، تاہم فریقین کے درمیان اب تک کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا، جس کی وجہ سے سرحدی کشیدگی برقرار ہے۔

قارئین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

بین الاقوامی امور میں دلچسپی رکھنے والے پاکستانی قارئین کے لیے یہ حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بیسویں صدی میں نوآبادیات کے خاتمے کا عمل صرف ایک خطے تک محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں یکساں جدوجہد جاری تھی۔

سیول اور پیانگ یانگ کے درمیان حالیہ سفارتی حرکیات پر نظر رکھنا اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کس طرح پرانے عارضی جنگ بندی معاہدے آج بھی علاقائی سلامتی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی خبروں سے باخبر رہ کر آپ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے رخ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔