جب بھی عصام الحق قریشی بین الاقوامی ٹینس کورٹ پر قدم رکھتے ہیں، وہ صرف اپنا ریکٹ نہیں اٹھاتے بلکہ ایک ایسی قوم کی امیدیں بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں جو کرکٹ کے علاوہ شاذ و نادر ہی عالمی سطح پر کامیابی دیکھتی ہے۔ لزبن میں ہونے والی آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ میں اس تجربہ کار پاکستانی کھلاڑی نے ایک بار پھر اپنا لوہا منواتے ہوئے ورلڈ مکسڈ ڈبلز کا ٹائٹل کامیابی سے دفاع کیا۔ انہوں نے آسٹریا کی نینا ہرمن کے ساتھ مل کر فائنل میں پرتگال کی ٹاپ سیڈ جوڑی فریڈ گل اور ریٹا فریٹاس کو شکست دی۔

پاکستان کے عام کھیل کے شائقین کے لیے ایسی خبریں اکثر کرکٹ بورڈ کی سیاست اور انتظامی بحرانوں کے شور میں دب جاتی ہیں۔ تاہم عصام الحق قریشی کی یہ فتوحات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ کس طرح ریاستی سرپرستی کے بغیر بھی ذاتی محنت اور لگن سے بین الاقوامی سطح پر نام بنایا جا سکتا ہے۔

لزبن میں شاندار کامیابی کی تفصیلات

لزبن کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ عصام اور نینا ہرمن نے سخت حریفوں کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی اور پھر ہوم فیورٹ پرتگالی جوڑی کو ہوم گراؤنڈ پر مات دی۔ سینئر 45 پلس کیٹیگری میں اس سطح کی کارکردگی یہ بتاتی ہے کہ عصام کی فٹنس اور ذہنی مضبوطی اب بھی عالمی معیار کی ہے۔

دوسری جانب، پاکستان کے دوسرے نامور کھلاڑی عقیل خان نے بھی اسی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مینز 45 پلس ڈبلز کے سیمی فائنل میں عصام اور عقیل کی جوڑی نے یوکرین کے آندری بائڈیکوف اور اناتولی اسٹیپاخنو کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی، جو پاکستانی ٹینس کے لیے ایک اور اعزاز ہے۔

کھیلوں کے میدان سے باہر اس کی کیا اہمیت ہے

پاکستان میں کرکٹ کے جنون کی وجہ سے دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کو فنڈز، سہولیات اور شناخت کے لیے دوگنی محنت کرنا پڑتی ہے۔ عصام نے دہائیوں تک اپنے بل بوتے پر بین الاقوامی ٹورز میں حصہ لیا اور پاکستان کا پرچم بلند رکھا۔

جب آپ کسی کھلاڑی کو عام ریٹائرمنٹ کی عمر کے بعد بھی عالمی ٹائٹلزستیتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو یہ ہمارے کھیلوں کے نظام کی خامیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ ہمارے ادارے چیمپئن پیدا نہیں کرتے بلکہ کھلاڑی خود اپنی محنت سے مقام بناتے ہیں۔ اگر آپ کے گھر میں بچے ٹینس یا کسی اور کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یہ کہانیاں انہیں سکھاتی ہیں کہ وسائل کی کمی کے باوجود محنت رنگ لاتی ہے۔

آپ کو آگے کیا دیکھنا چاہیے

اگر آپ ٹینس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کامیابیوں پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تو آئی ٹی ایف ماسٹرز سرکٹ کے نتائج کو فالو کریں۔ لاہور اور کراچی میں مقامی سطح پر چلنے والے ٹریننگ سیشنز پر توجہ دیں جہاں عقیل خان جیسے لیجنڈز نئی نسل کی تربیت کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کامیابیوں کو اپنے بچوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ان میں کھیلوں کا شوق پیدا ہو۔